کتاب: مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ - صفحہ 80
منتخب ہوئے تھے۔ اس تنظیم نے جب اہل حدیث مدارس کو منظّم کر کے کسی ایک مدرسہ کو مرکزی حیثیت سے نوازنا چاہا تھا تو سب کی نظر انتخاب اسی مدرسہ پر پڑی اور جامعہ محمدیہ کو ہی تنظیم اہل حدیث نے مرکزی درسگاہ قرار دیا۔ صوبہ پنجاب کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اس درس گاہ کو وسعت دینے کے لیے حافظ آباد روڈ پر موضع لدھیوالہ کے قریب 2/1*12 کنال اراضی خریدی تھی۔ خیال یہ تھا کہ آبادی سے ذرا پرفضامقام پر مدرسہ تعمیر کیا جائے۔ مگر اس زمانے میں شہر گوجرانوالہ میں اہل حدیث تعداد میں بہت کم تھے۔ وسائل کی کمی تھی۔ اس وجہ سے جامعہ محمدیہ کے لیے عمارت تعمیر نہ ہو سکی اور یہ درس گاہ جامع مسجد میں ہی چلتی رہی۔ یہاں بیک وقت دو مدارس کام کر رہے تھے۔ حفظ قرآن کا مدرسہ اور علوم اسلامیہ کا مدرسہ۔ مدرسہ تحفیظ القرآن سے بھی سینکڑوں حفاظ نے سند فراغت حاصل کی اور علوم اسلامیہ کے فارغ التحصیل حضرات کی تعداد کا تعین تو نہیں کیا جا سکتا مگر ان میں صاحبِ تصنیف، خطبا اور مدرسین کا تعارف آئندہ صفحات پر آئے گا۔ جامعہ کی جدید عمارت حضرت مولانا سلفی رحمہ اللہ کے زمانے میں جامعہ محمدیہ چوک نیائیں میں واقع تھا۔ مگر آپ کے شاگرد رشید حضرت مولانا محمد عبداللہ نے ذاتی کاوشوں اور جماعت کے مخیّر حضرات کے تعاون سے جی۔ ٹی روڈ موضع کنگنی والا کے قریب تقریباً 40 کنال اراضی خرید کر اس میں جامعہ شرعیہ محمدیہ کے نام سے ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی۔ حضرت مولانا سلفی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد جب شہر کی جماعت نے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ کو حضرت سلفی رحمہ اللہ مرحوم کی جانشینی بخشی تو مولانا موصوف اور جامعہ شرعیہ کی انتظامیہ نے جامعہ شرعیہ کی حیثیت کو ختم کر کے جامعہ محمدیہ چوک نیائیں کی علوم اسلامیہ کی درس گاہ کو اس جدید عمارت میں منتقل کر دیا۔ اس طرح تنظیم اہل حدیث کے مرکزی فیصلے کو 40 برس کے بعد پذیرائی ھاصل ہوئی۔ ہمارے اکابر جامعہ محمدیہ کو کھلی فضا کی خوبصورت بلڈنگ میں دیکھنا چاہتے تھے۔ جدید عمارت جامعہ محمدیہ کی موجودہ عمارت جی۔ ٹی۔ روڈ پر لاہور کی سمت موضع کنگنی والا کے قریب واقع ہے۔ یہ نہایت دلکش اور خوبصورت دو منزلہ عمارت ہے۔ اس میں وسیع و عریض ہال، کشادہ