کتاب: مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ - صفحہ 70
تاریخ اسلام اس کی شاہد ہے کہ زمانہ قدیم میں بھی علماء کی طرف رجوع ہوتا رہا۔ خود قرآن مجید اس کا شاہد ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ طلب کیا گیا۔ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ [1] حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب کبھی دو فریقوں میں نزاع پیدا ہوتا تو وہ خلیفہ وقت کے پاس آتے اور فتویٰ طلب کرتے۔ حدیث میں مذکورہے کہ ایک عورت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جدہ کی میراث کا فتویٰ لینے آئی تھی۔ آپ نے اس کو یہ کہہ کر لوٹا دیا تھا۔ مارأيت في كتاب الله من شئی۔۔۔۔ ارجع حتی اسئل الناس‘‘ غرض فتویٰ کا طلب کرنا ایک مذہبی عدالت سے رولنگ حاصل کرنے کے مترادف ہے۔ چنانچہ علماء کے فتوے لوگوں نے مدون کیے ہیں۔ حال ہی میں سعودی عرب کی حکومت نے کئی جلدوں میں فتاویٰ ابن تیمیہ شائع کیا ہے۔ خود ہندوستان میں فتاویٰ عالمگیری بڑے اہتمام سے مرتب کیا گیا تھا۔ آج ایک فریق کا مطالبہ ہے کہ اس کو بطور قانون نافذکر دیا جائے۔ دینی کتب کے بعض ناشروں نے مختلف مکاتب فکر کے فتاویٰ شائع کیے ہیں۔ (1)فتاویٰ رشیدیہ(2)فتاویٰ علمائے دیوبند(3)فتاویٰ مظہری(4)فتاویٰ علمائے اہل حدیث۔ مولاناسلفی رحمہ اللہ کو اللہ رب العزت نے یہ ملکہ عنایت فرمایا تھا کہ علوم مسخّضر رکھتے تھے۔ اگر کوئی شخص تحریری طور پر فتویٰ طلب کرتا تو نہایت مدلل اور جامع جواب دیتے۔ بعض علماء فتویٰ دیتے ہوئے طعن و تشنیع سے کام لیتے ہیں مگر حضرت سلفی رحمہ اللہ کے ہاں فتاوی میں طنز کی رسم پروان نہیں چڑھ سکی۔ حضرت سلفی رحمہ اللہ کے فتاویٰ تبلیغ دین کا ایک ذریعہ تھے۔ کتنا ہی تلخ سوال ہو۔ اپنے مسلک کے بالکل الٹ ہی کیوں نہ ہو۔ مگر اس قدر دلائل و براہین سے، محبت کی چاشنی سے اور نہایت نرم الفاظ سے فتوے کی عبادت رقم فرماتے۔ ذیل میں حضرت کے فتاویٰ کی خصوصیات کی جھلک پیش کی جاتی ہے۔ یہ مقالہ زیادہ تفصیل کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس وجہ سے چند مثالوں پر ہی اکتفا کیا گیا ہے۔ الاعتصام 12 جنوری1968ء۔ سوال! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ان مسئلوں کے بارے میں۔ (1)بعض علمائے دیوبند فرماتے ہیں کہ میرے درس میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ و سلم [1] النساء