کتاب: مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ - صفحہ 65
حضرت مولانا کے خطباتِ جمعہ ایک مسلمان معاشرہ کی ہر بستی و قریہ میں جہاں اہل اسلام نے مساجد تعمیر کر رکھی ہیں جمعۃالمبارک کے اجتماعات ہوئے ہیں۔ جمعۃالمبارک کے خطبات میں عوام الناس کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی تربیت مقصود ہوتی ہے۔ خطبہ جمعہ سنت نبوی ہے قرآن کا ارشاد ہے۔ كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِّنكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ اس طرح خلفائے راشدین خطبات جمعہ ارشاد فرماتے رہے اور یہ سلسلہ رشدو ہدایت مسلسل امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تا قیامت جاری رہے گا۔ حضرت مولانا سلفی رحمہ اللہ کی آمد سے پہلے گوجرانوالہ شہر کی کئی مساجد میں جمعۃ المبارک کے اجتماعات ہوتے تھے مگر مسلک اہل حدیث کا کوئی موزوں مرکز نہ تھا۔ الحمدللہ جب مولانا گوجرانوالہ تشریف لائے تو کچھ عرصہ کے لیے حاجی پورہ میں قیام فرمایا پھر مسجدعلاءالدین منتقل ہو گئے اور باقاعدہ جمعۃ المبارک کا خطبہ ارشاد فرماناشروع کیا۔ پہلے پہلے تو حاضری معمولی رہی پھر دور دراز تک حضرت کے مواعظِ حسنہ کی خوشبو پھیل گئی۔ خود بخود پھیل گئی بوئے دوست کوئی منت کشِ صبا نہ ہوا خطباتِ جمعہ میں نہ صرف شہر گوجرانوالہ کے لوگ شمولیت کرتے بلکہ قرب و جوار کے مضافات کے لوگ جوق در جوق شامل ہونے لگے۔ مسجد میں تل دھرنےکو جگہ نہ ہوتی تھی۔ مسجد کی بالائی منزل میں خواتین جمعہ میں شرکت کرتیں اور زیریں منزل میں مرد حضرات، بالآخر مسجد کی توسیع کرنا پڑی۔ حضرت مولانا کے خطبہ جمعہ کی سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ مختصر ہوتا، آدھ گھنٹہ سےزیادہ خطاب نہ فرماتے۔ 20منٹ کسی دینی موضوع کے لیے اور 10 منٹ سیاست اور حالات حاضرہ پر تبصرہ کرنے کے لیے۔ حضرت مولانا نہایت دلیری کے ساتھ حکومت کی غلط پالیسیوں پر