کتاب: مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ - صفحہ 63
تیمیہ رحمہ اللہ کی وفات ہوئی تھی۔ راز کاشمیری رحمہ اللہ کے ان اشعار میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ بے باکی و حق گوئی میں تو تیغ رواں تھا تو دشمن ایماں کے لیے برق تپاں تھا گفتار میں ، کردار میں ایک سوز نہاں تھا لاریب کہ تو دین کی عظمت کا نشان تھا تھی علم کی توقیر تیرے حسنِ عمل سے تاثیر میں اکسیر تیرا احسن بیاں تھا کیوں تجھ کو ابن تیمیہ رحمہ اللہ وقت نہ مانوں وہ بھی تو اسی شب ہوا فردوس مکاں تھا [1] [1] مجلّہ مہک گوجرانوالہ 1986ء ص 435