کتاب: مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ - صفحہ 55
مولانا عبدالحمیدرحمانی(دہلی) کا خراج تحسین پاکستان میں بطلِ جلیل حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ آف گوجرانوالہ جو علومِ قرآن، علومِ حدیث، علومِ فقہ و اصول، تاریخ فرق و ادیان اور دیگر اسلامی و عربی کے عالم اور امام تھے۔ ورع و تقویٰ میں علامہ محمد ابراہیم آروی۔ استاذ الاساتذہ حافظ عبداللہ غازی پوری،قاضی محمد سلیمان منصور پوری، مولانا عبدالقادرقصوری اور اپنے استاد حافظ عبدالمنان وزیرآبادی توحیدو سنت کے دفاع اور غیرت و حمیت میں علامہ عبدالعزیزرحیم آبادی،سنت کی ہمہ جہتی خدمت میں علامہ شمس الحق ڈیانوی عظیم آبادی،ملک کی سیاسی اور ملی فضاکو نہایت گہرائی اور بالغ نظری کے ساتھ سمجھنے میں مولانا ابو سعید محمد حسین بٹالوی اور شیخ الاسلام علامہ ابو الوفا ثناءاللہ امرتسری رحمہم اللہ کا عکسِ جمیل تھے اور تحریک آزادی ہندکی جدوجہدمیں بھرپور حصہ لینے اور برطانوی استعمارکے بپا کردہ فتنوں کا گہرا شعور رکھنے کے اعتبار سے وہ تحریک شہیدین رحمہ اللہ کے صحیح وارث تھے۔ تقسیمِ ملک کے بعد جماعت کے منتشر افراد کو منظّم کرنے، اہل توحیدکو متحد کرنے اور جماعت کے منتشر شیرازہ کو یکجا کرنے میں انہوں نے مولانا محمد داؤد غزنوی رحمہ اللہ کی رفاقت میں عظیم الشان کارنامہ انجام دیااور اخلاص، ایثار، قربانی، عمل پیہم اور سعی مسلسل کے ذریعے اپنوں اور غیروں کی مخالفت کی پرواہ کیے بغیر ہمہ جہتی سازشوں کے طوفان سے نبرد آزما ہوتے ہوئے جس طرح تحریک احیائے کتاب و سنت کی تجدیدکی یہ ان کے لیے انشاءاللہ سب سے بڑا صدقہ جاریہ بنے گا۔ ملی میدان میں دستور اسلامی کی تشکیل و تنقیدکی کوششوں سے لے کر ختم نبوت کے سلسلہ کی مخلصانہ کوششوں تک اور کچھ نئی نیم سیاسی مسلم تنظیموں اور تحریکوں کے خطرناک فتنوں سے لے کر تقلیدِ جامد، تصوفِ باطل،مشائخ پرستی اور قبر پرستی کے فتنوں تک وہ جس طرح نبٹے اور اسلامی تعلیمات کے خلاف غلام احمد پرویز، ادارہ ثقافت اسلامیہ اور ادارہ تحقیقات اسلامی وغیرہ کے پیدا کردہ فتنوں اور اسلام کے وجود کو مجروح کرنے کے لیے بین الاقوامی صہیونیت اور قادیانیت کی پشت پناہی میں مسٹر ظفر اللہ خان نے جو کھیل اسلام کے خلاف عالمی سطح پر کھیلنا شروع کیا تھا۔ ان سب کو مولانا نے اچھی طرح سمجھا اور ان کے خلاف کامیاب جدوجہدکی، عقل و درایت کے