کتاب: مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ - صفحہ 52
آپ کی علمی و عملی زندگی کے کارنامے تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ ثبت رہیں گے۔ آپ کے انتقال سے جو خلا پیدا ہو گیا ہےاس کا پر کرنا ممکن نہیں۔ عربی مرثیہ کی تاریخ میں عرب کی مشہورشاعرہ خاتون خنساء کا مقام بہت بلند ہے۔ علامہ مرحوم صحیح معنی میں خنساء کے اس شعر کا مصداق ہیں جو اس نے اپنے چچا زاد بھائی صخر کے انتقال پر کہا تھا۔ ’’اے صخر جب تک یہ نظام شمسی قائم ہے، آفتاب کا یہ طلوع و غروب مجھے یاد دلاتا رہے گا اور دوسرے شعر میں کہا،اے صخر ایک مدت تک تونےہمیں ہنسایا تھااب زندگی بھر تیری یادمجھے خون کے آنسورلائے گی۔ اسی طرح حضرت مولانا محمد اسماعیل کے علمی کارناموں،پرشوکت خطابت،بےمثل نقد و تبصرے، محققانہ مقالات اور قیادت وسیادت کی یاد ہمین مدتوں خون کے آنسو رلاتی رہے گی۔ خدا آپ کی قبرکو نور سے بھرے اور اعلیٰ علیین میں جگہ دے۔ آمین ثم آمین۔ [1] ماہنامہ نور الایمان کے مدیر مسئول،عالم بے بدل اور شارح بخاری حضرت مولانا محمد داؤد راز رحمہ اللہ نے اپنے مجلّہ میں حسب ذیل تاثرات کا اظہار فرمایا: ’’برصغیر کی جنگ آزادی کے عظیم مجاہد اور امیر جماعت اہل حدیث مغربی پاکستان شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد اسماعیل آف گوجرانوالہ20 /فروری بوقت4بجے بعد نماز عصر اچانک انتقال فرما گئے۔ مرحوم کی وفات حسرت آیات پوری دنیائے اسلام کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔ مرحوم نے پورے پچاس سال مسندو تدریس اور خطابت وافتاء میں گزارے اور اپنے ظاہری وباطنی فیوض سے ایک عالم کو مستفید فرمایا۔ تقسیم ملک کے بعد آپ نے کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی مسلمانانِ ہند کو فراموش نہیں کیا۔ جماعت اہل حدیث پاک و ہندکے آپ عظیم مذہبی و روحانی راہنماتھے۔ ذاتی طور پر میرے لیے آپ کا وجود گرامی علم و ہدایت کا عظیم ستارہ تھا۔ جب بھی میں نے آپ سے قلمی و علمی استفادہ چاہا۔ آپ نے پورے طور پر ہمت افزائی فرمائی۔ جریدہ نور الایمان کا اجراء اور بخاری شریف مترجم اردوکا پروگرام آپ کی خصوصی دعاؤں کے تحت عمل میں لایا گیا۔ اب مرحوم کی یاد میں آنکھیں اشک بار ہیں اورآپ کی جدائی سے دل پر سخت ترین صدمہ ہے۔ افسوس کہ جماعت اہل حدیث اپنے مخلص ترین رہنماسے محروم ہوگئی۔ اللہ پاک آپ کو فردوس بریں میں جگہ دے اور آپ کے پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق بخشے۔ مرحوم جیسی عظیم شخصیتیں مدتوں بعد عالم وجودمیں آتی ہیں۔ [2] [1] اخبار اہل حدیث دہلی 7مارچ 1968ء  [2] ماہنامہ نور الایمان فروری تا مارچ 1968ء