کتاب: مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ - صفحہ 41
سنگدل آدمی کا دامنِ صبر بھی ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ تقریباً چار بجے اللہ کے اس ولی کامل کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ اللهم اغفرله وارحمه ووسع مدخله واكرم نزله.آمین۔ [1] ایک حدیث شریف میں ہےکہ اگر 40نیک آدمی کسی شخص کے جنازے کے ساتھ جا کربخشش کی سفارش کریں تو اللہ قبول فرما لیتے ہیں۔ مگر جس شخصیت کے جنازے میں ہزاروں علما اور ولی شامل ہوں اور وہ رو رو کر اللہ سے التجائیں کر رہے ہوں کہ اے اللہ اس کے گناہوں سے در گزر فرما۔ اس کو جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرما۔ اس میں اور اس کی خطاؤں میں اتنا فاصلہ کر دے جتنا مشرق و مغرب میں ہے۔ اے اللہ اس کی مہمانی فرما۔ تو ایسے خوش نصیب کی بخشش میں کیا شک رہ جاتا ہے۔ اللھم اغفرلہ وارحمہ،۔ نوٹ:اسی اندازکے بہت سے خطوط سعودی عرب ،انڈیا ،عرب امارات اور ملک کے گوشے گوشے سے موصول ہوئے۔ صرف اہل علم کے خطوط پر اکتفا کیا گیا ہے۔ یادیں اورتاثرات یادیں اور تاثرات کے باب میں مختلف اہل علم و قلم اور اصحاب دانش و بینش نے حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کے بارے میں اپنے تاثرات اور یادیں قلمبند کی ہیں۔ ان تاثرات سے ان کی زندگی کے گونا گوں پہلو۔ شخصی محامد اور کمالات کا تنوع نمایاں ہوتا ہے۔ ان میں یادوں کے شگفتہ تذکرے ہیں اور مولانا مرحوم کے اخلاقی محاسن کا حسنِ بیان بھی ہے۔ گو ان کی علمی و تصنیفی خدمات آگے مستقل عنوان کے تحت آرہی ہیں تاہم زیر نظرباب میں مولانا ممدوح کے کردار کی ایک نظر نواز جھلک دکھانا مقصود ہے۔ یادوں اور تاثرات کا سلسلہ ایسا ہے کہ ایک شخصیت کے بارے میں اگرچہ اظہار رائےکرنے والے مختلف ہوں تاہم ان میں تو اردوتوافق کاامکان ناگزیر ہوتا ہے۔ اس لیے مضامین تکرارکو ہی قند مکرر کی حیثیت دیتی ہوں۔ اگرچہ کسی عالم فاضل شخصیت کا اصل کمال اس کی علمی خدمات ہوتی ہیں جن کو چھوڑکر وہ دنیاسے رخصت ہوتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہ زندگی میں کسی طرز عمل کا عادی تھا۔ اس کے مراسم اپنے ہم عصر احباب و رفقاء کے ساتھ کیسے تھے۔ چنانچہ ان کی وفات [1] ۔ الاعتصام 19اپریل 1968ء