کتاب: مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ - صفحہ 39
ابراہیم کی قربانی قبول ہوگئی حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کے ہم مکتب اور ہم درس ایک تعزیتی مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں۔ ’’استاذنا حضرت مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی رحمہ اللہ سے میں نے سنا کہ حضرت سلفی رحمہ اللہ کےوالد ماجد جناب میاں محمد ابراہیم کے ہاں اولاد نہ تھی۔ انہوں نے حضرت حافظ عبدالمنان صاحب وزیرآبادی کی خدمت اقدس میں حاضرہو کر دعا کی درخواست کی اور یہ نیت ظاہرکی کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے لڑکا عطا کرے تو میں اس کو دینی خدمت کے لیے وقف کر دوں گا اور دنیا کا کوئی کام نہ لوں گا۔ چنانچہ اس کے بعد اللہ کریم نے انہیں یہ فرزند ارجمند عطا فرمایا۔ میاں محمد ابراہیم صاحب نے بھی اپنی نذرپوری کی اور استاذ پنجاب کی خدمت میں چھوڑدیا۔ فتقبلهارابهابقول حسنِ وانبتھا نباتاًحسناً. [1] وہی اسماعیل جمعیت اہل حدیث پاکستان کا امیر ہو کر اپنی دینی و جماعتی خدمات سرانجام دیتاہوا ہمیشہ کے لیےاپنی یاد ہمارے دلوں میں چھوڑ کر منزل مقصود پر پہنچ گیا اس طرح ابراہیم کی قربانی قبول ہوئی ہےاور پوری مذہبی دنیااس کی شہادت پر صدائیں بلندکر رہی ہے۔ ونحن علیٰ ذالك من الشاهدين.اللہ تعالی اس فقیردل انسان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام بخشے اور ہمیں اس مصیبت میں اجراور صبردے اور اس کا بدل عطاکرے۔ آمین۔ (غمزدہ۔ عبداللہ ثانی۔ جڑانوالہ) [2] [1] ۔ آل عمران : 37  [2] مولانا سلفیؒ کے گھر والوں کو تعزیتی خط