کتاب: مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ - صفحہ 35
قومی پریس کاخراجِ عقیدت مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ ایک ایسا قیمتی وجود ہےجنہیں دیکھ کر اسلاف کے تقدس، فقر، علو کردار اور رفعت فکرو نظرکی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ مولانا سلفی گوجرانوالہ کے افق پر دمکنے والے ایسے ستارے تھے جس نے ایک مدت تک بہکے اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو حرم کا راستہ دکھایا۔ عمل کا ذوق پیدا کیا۔ اتقاء کا شعور ابھارا اور سوزِنوا سے زخمِ خیال کو بھی نغمہ سرا کر دیا 20/فروری68ء کو کس کس نے ان کا ماتم نہیں کیا۔ علم و نظراشکبار تھےاور زہدو عبادت کے سلسلے سوگوار۔ عروس خطابت نوحہ کناں تھی کہ اس کے ماتھے کاجھومر منوں مٹی کے نیچےاتر گیا تھا۔ [1] نوائےوقت نوائے وقت نے ادارتی نوٹ میں لکھا’’مرحوم صرف جید عالم دین، باکمال خطیب اور جادوبیان مقرر ہی نہ تھے بلکہ وہ ایک خاموش سیاسی کارکن اور اتحاد اسلامی کے زبردست داعی تھے۔ ضبط و تحمل رواداری ان کی طبیعت کا خاصہ تھا۔ وہ نے صرف فرقہ وارانہ منافرت کے خلاف تھے بلکہ انہوں نے مختلف فرقوں کے مابین فروعی اختلافات ختم کرنے کی کوشش کی۔ وہ دین کو سیاست سے الگ نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے زندگی بھر دینی خدمت کے ساتھ ساتھ ملکی سیاست کو اسلامی رنگ دینے کی مخلصانہ کوشش کی۔ ‘‘ [2] روزنامہ کوہستان روزنامہ کوہستان کے ادارتی نوٹ میں مولاناکے محاسن کا تذکرہ کرنے کے بعد ایڈیٹر نے لکھا کہ بڑا المیہ ہے کہ رشدو ہدایت کے ایک ایک چراغ بجھتے جا رہے ہیں لیکن ان کی جگہ پر [1] ۔ مجلّہ مہک گوجرانوالہ ص 429۔  [2] روز نامہ نوائے وقت 21فروری 1968ء