کتاب: مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ - صفحہ 152
مولانا محمد ادریس بڈھیمالوی رحمہ اللہ حضرت مولانا محمد ادریس رحمہ اللہ نے اپنی تعلیم کا آغاز اپنے آبائی مدرسہ رحمانیہ موضع بڈھیمال ضلع فیروز پور (انڈیا) سے کیا۔ اس کے بعد حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کے مدرسہ جامعہ محمدیہ میں منتقل ہوگئے اور پھر حضرت مولانا سلفی رحمہ اللہ کی نگرانی میں تکمیل علم کی اور سند فراغت حاصل کی۔ حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کے علاوہ آپ نے دیگر شیوخ سے بھی استفادہ کیا۔ ان میں قابل ذکر حضرت استاذ الاساتذہ حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ اور حافظ محمد عبداللہ صاحب بڈھیمالوی رحمہ اللہ کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔ آپ ساری عمر تعلیم و تعلم میں مصروف رہے۔ علمی وجاہت کے ساتھ ساتھ آپ نے زہد و ورع میں بھی بڑا اونچا مقام حاصل کیا تھا۔ ہمدردی، ایثار، قربانی اور محبت فی اللہ آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ آپ نے 20/فروری1974ء کو وفات پائی اور چک206گ۔ ب میں سپرد خاک کیے گئے۔ [1] مولانا ابوالکلیم محمد اشرف سلیم مولانا محمد اشرف سلیم ریاست پٹیالہ کے راجپوت خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ہجرت کے بعد آپ کے خاندان نے قلعہ دیدار سنگھ ضلع گوجرانوالہ میں سکونت اختیار کی۔ مولانا اشرف صاحب نے مقامی ہائی سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ کے علاوہ لاہور، خانپور، وزیرآباد، فیصل آباد اور راولپنڈی کے کئی مدارس سے تعلیم حاصل کی۔ آپ نے حضرت مولانا سلفی رحمہ اللہ کے علاوہ مولانا سید مودودی رحمہ اللہ ۔ حافظ محمد عبداللہ محدث روپڑی۔ حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ ۔ حضرت مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ ۔ حضرت مولانا محمد رسول خان صاحب رحمہ اللہ سے بھی اکتساب علم کیا۔ مولانا محمد اشرف سلیم کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ تادمِ تحریر ان کی 14 کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ [2] مئی 2002ء کو وفات پا گئے۔ حضرت مولانا سلفی رحمہ اللہ کے تمام شاگردوں کا احاطہ تو نہیں کیا جا سکتا۔ صاحب تصنیف تلامذہ [1] ۔ تنظیم اہل حدیث لاہور۔ 16مارچ 1984ء  [2] تذکرہ علمائے اہل حدیث ج دوم ص 124۔ 123