کتاب: مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ - صفحہ 147
مولانا کی ملی خدمات تحریک پاکستان کے دوران مولانا محمد عبداللہ صاحب کانگریس کے سخت مخالف اور مسلم لیگ کے زبردست حامی تھے۔ مسلم لیگ کی حمایت اور کانگریس کے خلاف آپ کے معرکۃ آرا خطبات قیام پاکستان کی تحریک میں گراں قدر حیثیت رکھتے تھے۔ آج وہ خطبات ٹیپ شدہ ہوتے تو نئی نسل کے لیے ایک بہترین سرمایہ ہوتے۔ یہ خطبات ان لوگوں کے لیے بھی غایت درجہ مفید ہوتے جن کے قلوب و اذہان آج بھی پاکستان کے وجود کے متعلق صاف نہیں ہیں۔ مگر اس زمانہ میں خطبات اور تقریروں کو منضبط کرنے کا کوئی سائنسی فارمولا شاید ایجاد نہیں ہوا تھا۔ مولانا اپنے خطبہ جمعہ کے دوران بھی پاکستان کی حمایت اور کانگریس کے نظریہ پر شدید ضربیں لگاتے تھے۔ حالات حاضرہ پر مولانا دوران خطبہ تبصرہ کرتے تھے۔ مذہب اور سیاست کے متعلق مولانا کا نظریہ یہ تھا کہ مذہب اور سیاست ایک ہی جسم کے دو اعضا ہیں یا ایک ہی درخت کی دو شاخیں ہیں۔ مذہب و سیاست کو الگ کرنے والے ایک ہی جسم کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والے ہیں۔ ان کے خیال میں انسانی زندگی کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں جس کا حل قرآن و سنت نے پیش نہ کیا ہو۔ افتاء افتاء کا منصب بڑی ذمہ داری کا منصب ہے۔ صاحبِ افتا وہی ہو سکتا ہے جسے مسائل شرعیہ پر کامل عبور ہو۔ فتویٰ نویسی کے وقت دلائل مستحضر ہوں۔ مولانا کی فتویٰ نویسی میں قرآن و سنت کے دلائل کا اندراج بھی ہوتا تھا۔ فتاویٰ کی تعداد کا صحیح اندازہ نہیں۔ نامور تلامذہ مولانا موصوف کے تلامذہ کا شمار تو بہت مشکل ہے تاہم چند نامور تلامذہ مندرجہ ذیل ہیں۔ (1)مولانا بشیر الرحمٰن(2) مولانا عبدالرحمٰن و اصل خطیب دال بازار گوجرانوالہ (3) مولانا شمشاد احمد سلفی (4) مولانا حافظ عبدالغفور آف جہلم (5) پروفیسر قاضی مقبول احمد (6) مولانا حافظ عبدالمنان۔