کتاب: مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ - صفحہ 142
مولانا حافظ عبدالجبار عمر پوری رحمہ اللہ متوفی 1334ھ بمطابق 1916ء حضرت مولانا حافظ عبدالجبار عمر پوری موضع عمر پورضلع مظفرنگر (یو۔ پی) کے رہنے والے تھے۔ آپ کے والد گرامی کا اسم شریف منشی بدر الدین تھا۔ یہ السنہ شرقیہ کے ماہر اور فارسی کے فاضل تھے۔ صاحب تقویٰ اور مشہور علماء میں سے تھے۔ مولانا عمرپوری نے فنون کی کتابیں مولانا فیض الحسن سہارنپوری سے پڑھیں اور علم حدیث شیخ الکل سید نذیر حسین دہلوی رحمہ اللہ سے پڑھا۔ مولانا عمرپوری بہت ذکی الحسس تھے۔ آخری عمر میں مکوف البصر ہو جانے کے باوجود اپنے اسباق بڑی عمدگی سے پڑھاتے تھے۔ وعظ و نصیحت بہت عالمانہ اور موثر ہوتی۔ نماز فجر کے بعد بلاناغہ ترجمہ قرآن مجید پڑھاتے۔ آپ کو شعرو سخن میں بھی ملکہ تھا مگر شاعرانہ تعلیوں سے مبرا۔ آپ حضرت شیخ الکل کے مدرسہ میں ہی مدرس تھے۔ بےشمار تلامذہ نے آپ سے کسبِ فیض کیا۔ آپ کے تلامذہ میں حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ نے شہرت دوام حاصل کی۔ آپ صاحب تصنیف بھی تھے۔ درج ذیل کتب آپ کا علمی ورثہ ہیں۔ (1)صمصام التوحید فی ردالتقلید (2) ارشاد السائلین فی مسائل الثلاثین(3) تذکیر الاخوان فی خطبہ الجمعۃ فی کل لسان(4) ارشاد الانام فی فرضیۃ الفاتحہ خلف الامام (5) تنصرۃ الانام فی فرضیۃ الجمعۃ و الفاتحہ خلف الامام۔ نیز آپ رسالہ ضیاء السنہ کلکتہ کے بھی ایڈیٹر رہے۔ 57برس کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ اپنی یادگار آپ نے ایک ولد صالح عبدالستار چھوڑا جو اسی سن میں آغوش پدری میں جا سوئے۔ مولانا عبدالرحمٰن نے ذیل کی رباعی میں مادہ تاریخ وفات نکالا۔ [1] بحسن سعی اش مشکوربادا نداازہاتفے’’مغفورباداً ‘‘ 1334ھ [1] تراجم علمائےاہل حدیث ہندجلداول مصنفہ ابویحيٰ امام خان نوشہروی ص66۔ 165