کتاب: مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ - صفحہ 141
پہنچا۔ اس مدرسہ کی تعمیر میں سرکاری یا نیم سرکاری اداروں سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا گیا۔ 14/شعبان1374ھ (1955ء) بروز جمعہ بعد نماز عصر اس مدرسہ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اہل ذوق نے سنگ بنیاد پر تاریخیں کہی ہیں۔ بنائے مسجد تاسس علی التقویٰ جامعہ اشرفیہ بنائے اشرف ہے 74 ھ 13 74 ھ 13 حضرت مفتی صاحب کا مقام حضرت مفتی صاحب کو اتباع سنت کا اس قدر دھیان رہتا تھا کہ کبھی غیر اختیاری طور پر بھی اس کے خلاف کرنے کا سہو نہ ہوتا تھا۔ آپ ہر آنے والے کو اتباع سنت کی تاکید فرماتے۔ آپ نے ہر طبقہ اور ہر سطح کے لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب پیدا کر کے سچا متبع سنت بنا دیا۔ جو شخص بھی حضرت رحمہ اللہ کی زیارت کے لیے حاضر ہوتا متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔ ایک دفعہ مولانا عبدالماجد دریا آبادی حاضر خدمت ہوئے تو اپنے سفر نامہ پاکستان میں تحریر کیا ’’بعد عصر حاضری ہوئی اور دیر تک حضرت کے حکمت و معرفت کے کلمات اور اچھی اچھی باتیں سننے میں آتی رہیں۔ بزرگی صورت سے ظاہر ہے اور تواضع و حسن اخلاق تو شاید انہی کا حصہ ہے۔ ‘‘ [1] حیات اشرف میں مولانا منشی عبدالرحمٰن رقمطراز ہیں’’قطب زماں شیخ دوراں، رئیس الخلفا اشرفیہ حضرت مولانا محمد حسن صاحب امرتسری رحمہ اللہ ، ان نفوس قدسیہ میں سے ہیں جو نظام تکوینی کے سلسلہ میں مامور من اللہ ہوتے ہیں۔ ‘‘ [2] الغرض حضرت مفتی رحمہ اللہ صاحب حبِ رسول سے سرشار، عبدیت کا نمونہ کامل، اخلاقِ حمیدہ سے مالامال، خوف و خشیت میں ڈوبے ہوئے اور حکمت رومی کے حالاً و قالاً ترجمان تھے۔ [1] سفر نامہ پاکستان از عبدالماجد دریا آبادی ص52  [2] تذکرہ حسن ص 175