کتاب: مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ - صفحہ 140
درس قرآن کریم حضرت مفتی صاحب کا درس قرآن آپ کی تدریس و تعلیم ومواعظ سے نمایاں حیثیت رکھتا تھا، تدریس و تعلیم کے مخاطب تو چند طلبا ہی ہوتے اور بیان صرف کتابی مضامین تک محدود رہتا مگر درس قرآن میں علمائے کرام، طلبائے مدارس اسلامیہ، نیز اہل اسلام کا مجمع ہوتا تھا۔ آپ کا بیان ازحد دلکش ہوتا تھا یہ درس پوری پابندی اور استقامت کے ساتھ چلتا رہا۔ کئی داخلی و خارجی موانع پیش آئے مگر حضرت مفتی صاحب نے کسی رکاوٹ یا مانع کی پرواہ نہیں کی اور عمر شریف کے آخری ایام تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ امرتسر سے لے کر جامعہ اشرفیہ لاہور تک درس قرآن کی کل مدت 25 سال بنتی ہے۔ دوران درس اختلافی مسائل کے بیان میں بھی کسی دوسرے مسلک کے شخص کو شکایت کا موقع نہ دیتے۔ ایک دفعہ فاتحہ خلف الامام کی بحث ایسے انداز میں فرمائی کہ مخالف بھی اقرار کیے بغیر نہ رہ سکے۔ آپ کا درس بہت مفصل ہوتا تھا۔ کئی روز اعوذ باللہ پر بحث ہوئی۔ پورا ہفتہ بسم اللہ پر درس چلتارہا۔ تین ماہ میں سورۃ فاتحہ ختم ہوئی۔ جامعہ اشرفیہ کا قیام قیام پاکستان کے بعد اکثر لوگ مکانوں، دوکانوں کی الاٹمنٹ کے چکر میں پڑ گئے۔ مگر حضرت مفتی صاحب کو یہی فکر تھی کہ دین کی خدمت کے لیے کیا کیا جائے۔ چنانچہ نیلا گنبدکے علاقہ میں مول چند بلڈنگ کا ایک حصہ مدرسہ کے لیے حاصل کر کے ستمبر1947ء میں جامعہ اشرفیہ کے نام سے تدریسی کام شروع کر دیا۔ اس مدرسہ کو عنداللہ اتنی مقبولیت حاصل ہوئی کہ تھوڑے عرصہ میں اساتذہ اور طلبا کے لیے گنجائش نہ رہی۔ چنانچہ ایک مخصوص اجلاس میں فیصلہ کر لیا گیا کہ جامعہ کے لیے ایک وسیع و عریض عمارت تعمیر کی جائے جو نہ صرف شہر لاہور اور اس کے ملحقہ علاقوں کے لیے کافی ہو بلکہ پورے پاکستان کی تعلیمی ضروریات پوری کر سکے۔ اس مخصوص اجلاس کے تھوڑے عرصہ کے بعد فیروز پور روڈ پر نہر کے کنارے ایک سو کنال زمین خرید لی گئی۔ اس زمین کی قیمت ایک دور میں ایک لاکھ پچیس ہزار روپے تھی جب کہ جامعہ کے فنڈ میں صرف تین ہزار روپے تھے۔ حضرت مفتی صاحب کا بھروسہ اسباب پر نہ تھا بلکہ مسبب الاسباب پر تھا اسی بنا پر یہ عظیم الشان منصوبہ بغیر مادی وسائل کے قلیل عرصہ میں پایہ تکمیل تک