کتاب: مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ - صفحہ 132
(9) شیخ احمد دمشقی (10) شیخ علی بن معالی نجدی (11) شیخ اسماعیل بن عبدالمالک یمنی (12) مولانا عبداللہ صاحب یاغستانی (13) مولانا نور اللہ صاحب کابلی (14) مولانا عبدالصمدبنگالی (15) مولانا عبدالرشیدمرشد آبادی (16) مولانا محمد شریف عیسیٰ خیل (17) مولانا احمد شاہ ہزاروی رحمہ اللہ (18) مولانا خان محمد حمیدپوری رحمہ اللہ (19) مولانا حافط محمد گوندلوی رحمہ اللہ (20) مولانا سید عبدالحق ملتانی رحمہ اللہ (21) مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ [1] اسی مختصر فہرست سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا کے شاگرد نہ صرف ہندوستان کے مختلف صوبوں میں پھیلے ہوئے تھے بلکہ تبت۔ یمن۔ نجد۔ روس اور کابل میں بھی آپ کے شاگرد موجود تھے۔ حضرت حافظ صاحب کے شاگردوں میں جنات بھی تھے۔ آپ کے ایک جن شاگردجس کا نام جمہ تھااس کے بارے میں کئی واقعات مشہور ہیں۔ اس لحاط سے حضرت حافظ عبدالمنان وزیرآبادی بیک وقت عرب و عجم اور جن و انس کے استاد تھے۔ ذلک فضل اللّٰه یوتیہ من یشاء حضرت مولانا وزیرآبادی کے مفصل تعارف سے یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ حضرت سلفی رحمہ اللہ کو رب العزت نے فنِ حدیث میں جو مہارت عنایت فرمائی تھی اس کی ایک اہم وجہ ایک نابغہ روزگار استاد سے کسبِ فیض تھا۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ نہ آج ایسے اخلاص کیش اساتذہ میسر ہیں اور نہ ایسے تلامذہ۔ آں قدح بشکست وآں ساقی نہ ماند۔ [1] ۔ سوانح حضرت مولانا حافظ عبدالمنان وزیر آبادیؒ مصنفہ لدھے خان بن رجب علی ص 16۔ 17