کتاب: مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ - صفحہ 105
پر شور و شغب۔ میلے اور ہنگامے بھیاس مقصد کے منافی ہیں۔ [1] حضرت سلفی رحمہ اللہ نے قبر پرستی کے مرض کی نشاندہی اس طرح فرمائی ہے۔ ’’بت پرستی اور قبر پرستی میں اصل مرض یہ ہے کہ مشرک غائب خدا پر یقین نہیں رکھتا۔ اسے یقین نہیں آتا کہ غیر مرئی معبود اس کی ضرورت کس طرح پوری کر سکے گا۔ وہ بڑے خلوص اور دلسوزی سے محسوس کرتا ہے کہ کائنات کا اتنا بڑا نظام نظروں سے غائب اور اکیلا خدا کیسے چلائے گا۔ أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ(ص۔ 38/5) مَا سَمِعْنَا بِهَٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ هَٰذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ(ص38۔ 7) ابناء غائب خدا کی دعوت دیتے ہیں۔ ارباب توسل کی تسکین ظاہری شفاء اور عطا کی بزرگوں کے سوا ہوتی نظر نہیں آتی۔ اس لیے یہ تشنگی کبھی قبروں سے پوری کی جاتی ہے کبھی بتوں سے۔ [2] حضرت مولانا نے ابن جریر کے حوالہ سے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے کہ ’’لات‘‘ ایک بزرگ تھے۔ یہ حاجیوں کو ستو گھول کر پلایا کرتے تھے۔ جب ان کا انتقال ہو گیا تو ان کی قبر پر لوگوں نے اعتکاف کیا اور اس کی پرستش کی۔ قبر پرستی کے آغاز کے بارے میں مولانا نے حافظ ابن کثیر، علامہ بدر الاسلام عینی اور تفسیر مظہری کے حوالہ جات دیئے ہیں۔ مولانا نے یہ حوالہ بھی نقل فرمایا ہے ’’جب یہ پیر ’’ستو شاہ‘‘ فوت ہو گئےتو عمرو بن یحيٰ نے کہا یہ ولی پتھر میں سما گئے ہیں، فوت نہیں ہوئے۔ لوگوں نے پتھر کی عبادت شروع کر دی اور اس پر ایک مکان بنا دیا۔ ‘‘ [3] اس کے بعد مولانا نے حوالہ جات دینے ہیں کہ ائمہ نے بھی پختہ قبر بنانے کی اجازت نہیں دی۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ۔ امام شافعی رحمہ اللہ ۔ امام مالک رحمہ اللہ اور علامہ شامی کی عبارات نقل فرمائی ہیں۔ کہ یہ ائمہ کرام پختہ قبروں کو ناجائز تصور فرماتے تھے۔ اس کے بعد مولانا نے قبر پرستی کے آغاز اور اس کے بتدریج رواج پانے کا ذکر کیا ہے اور پھر قبروں پر شرکیہ رسوم مثلاً چراغ جلانا۔ عرس منانا اور قبروں پر پھول چڑھانا وغیرہ کی بابت احادیث اور آثار صحابہ نقل فرمائے ہیں کہ یہ سب چیزیں شرعاً ممنوع ہیں۔ اس کے بعد مولانا نے مسنون زیارت کا ذکر فرمایا ہے اور مسلم ابو داؤدکی یہ روایت نقل کی ہے۔ ’’كنت نهيتكم عن زيارۃ القبور الافروروھا فانھا تذکر الآخرۃ۔ (میں تم [1] یارت قبور ص 12۔ 11 [2] زیارت قبور ص 14  [3] 5۔ ابن جریر پ 27ص