کتاب: مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ - صفحہ 103
6۔ اگر جمہور فقہاء اور خلفاء متفق ہو جائیں تو اسے کافی سمجھا جائے گا۔ 7۔ اگر فقہاء میں اختلاف ہو تو زیادہ متقی اور ضابط کی حدیث قبول ہو جائے گی۔ 8۔ اگر علم و فضل، ورع و تقویٰ اور حفظ و ضبط میں سب برابر ہیں تو اس مسئلہ میں متعدد اقوال تصور ہوں گے جس پر جی چاہے عمل کرے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ 9۔ اگر اس میں بھی تسکین بخش کامیابی نہ ہو تو قرآن و سنت کے عمومات اقتضاء اور اشارات پر غور کیا جائے گا اور مسئلہ زیر بحث کے نظائر کو دیکھا جائے گا۔ حضرت شاہ صاحب کا فرمان ہے کہ یہ 9 اصول صحابہ و تابعین سے ماخوذہیں۔ [1] مولانا نے ان 9 اصولوں کی ثقاہت کے لیے امام اوزاعی، حضرت عمر بن عبدالعزیز، سنن دارمی، وغیرہم کے حوالہ جات نقل فرمائے ہیں اور یہ ثابت کیا ہے کہ اہل حدیث نے کتاب و سنت کے فہم میں کسی فرد کی امامت کی بجائے ائمہ سلف اور صحابہ کو اپنا امام تصور کیا۔ فروع، عقائد، احسان اور تصوف میں بھی ان بزرگوں کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔۔۔ اور نہ ہی شخصی آرا و اذکار کو ائمہ سلف اور صحابہ کا بدل سمجھا اور عملاً صدیوں اس پر کاربند رہے۔ حضرت شاہ صاحب نے حجۃ اللہ البالغہ میں اہل الرائے اور اہل حدیث دونوں مکاتب فکر کے زوال کی وجہ یہ بھی بیان کی ہے کہ اس آخری دور میں اہل حدیث اور اہل الرائے اپنی جگہ سے ہٹ چکے ہیں۔ متاخرین اہل الرائے میں استدلال اور استنباط کی بجائے جمود اور تقلید آگئی ہے اور اہل حدیث نے بھی حدیث کی طرف بے توجہی کی ہے۔ وہ تقریباً ایک رسم کے طور پر تمسک بالحدیث کر رہے ہیں۔ استنباط اور اجتہاد کے نقطہ نظر سے نہیں اور نہ ہی تفقہ کی کوشش کرتے ہیں۔ ان فکر انگیز مسائل کے بعد مولانا سلفی رحمہ اللہ نے فاتحہ خلف الامام، رفع الیدین، زیارت قبور، وضو کے نواقض، وتر، قنوت، جمع بین الصلوٰتین، تکبیرات عیدین، وغیرہ مسائل میں اہل الرائے کے نقطہ نظر اور حدیث کے نقطہ نظر سے وضاحت فرمائی ہے۔ اس کے بعد مولانا نے تقلید کی تاریخ اور اس کا تدریجی ارتقا بیان فرمایا ہے اور مختلف ادوارمیں اہل حدیث کی خدمات اور ائمہ ہدی کی اہل حدیث کے بارے میں رائے نقل فرمائی ہے۔ مئی 1965ء کے فاران میں مولانا محمد تقی صاحب عثمانی نے مروجہ تقلید کے بارے میں جن خیالات کا اظہار فرمایا تھا۔ مولانا نے اس کے جواب میں تقلید مطلق کی کئی غلطیوں کی نشاندہی فرمائی ہے۔ غرض اس کتاب میں اہل حدیث کی قدامت اور تمسک بالکتاب و السنۃ کے بارے میں ان کی خدمات بیان کی گئی ہیں۔ انداز تحریر مدلل اور منطقیانہ ہے۔ [1] حجۃ اللہ البالغہ ج 2 ص 119