کتاب: مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ - صفحہ 102
حدیث و سنت کے مقابلہ میں ان کی تسلی نہ کر سکے۔ فقہاء نے اپنے اصول کی حمایت کے لیے احادیث کو نظر انداز کر دیا اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو صفات اور موقوفات کو قبول کر لیا۔ [1] مولانا نے اس سلسلہ میں یہ مثال دی ہے کہ فقہاء عراق کا خیال ہے کہ اگر شراب کا سرکہ بنا لیا جائے تو یہ حلال ہی ہوگا اور ایسا کرنا درست بھی ہوگا۔ کیونکہ جب کسی چیز کی صورت ہی بدل جائےتو اس کا حکم بھی بدل جاتا ہے۔ لیکن محدثین کا خیال ہے کہ سرکہ بنانا درست نہیں اور اگر کوئی سرکہ بنا بھی لے تو حرمت بدستور قائم رہے گی۔ اس لیے اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس کی وجہ محدثین یہ بیان کرتے ہیں کہ حدیث میں شراب سے سرکہ بنانےکی صراحۃً ممانعت آئی ہے۔ اسی طرح فقہاء کہتے ہیں کہ مال مسروق کی اگر صورت بدل جائے۔ مثلاً غلہ اگر پیس دیا جائے یا جانور ذبح کر کے اس کا گوشت بنا دیا جائے تو فقہاء کرام کے نزدیک چور کے تمام تصرفات مالکانہ ہوں گے۔ مگر محدثین ان ظاہری تبدیلیوں کے باوجود سارق کے مالکانہ حقوق کو تسلیم نہیں کرتے نہ اسے مزید تصرفات کی اجازت دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ گو بظاہر تبدیلی آگئی ہے۔ لیکن چور بدستور چور ہے۔ تاویلات کے زور سے چور کو مالک نہیں کہہ سکتے۔ چونکہ’’نص السارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما‘‘ کا مقصد یہ ہے کہ جب تک سارق سارق ہے مال مسروق ہے۔ جس طرح اس کی خرید و فروخت اصل صورت میں ممنوع ہے اس طرح تبدیلی صورت میں بھی ممنوع ہے۔ اس کتاب میں مولانا نے حضرت شاہ ولی اللہ کے حوالے سے فقہ الحدیث کے بنیادی اصول رقم فرمائے ہیں اس سے اہل الرائے اور اہل حدیث کا فرق واضح ہو جاتا ہے۔ فقہ الحدیث کے اصول 1۔ جب قرآن میں کوئی حکم صراحۃً موجود ہو تو اہل حدیث کے نزدیک کسی دوسری چیز کی طرف توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔ 2۔ اگر قرآن میں تاویل کی گنجائش ہو۔ مختلف مطالب کا احتمال ہو تو سنت کا فیصلہ ناطق ہو گا۔ قرآن کا وہی مفہوم درست ہوگا جس کی تائیدسنت سے ہوتی ہے۔ 3۔ اگر قرآن کسی حکم کے متعلق بالکل خاموش ہو تو عمل سنت پر ہوگا۔ 4۔ جب کسی مسئلہ پر حدیث مل جائے تو تو کسی مجتہدیا امام کی بات نہ مانی جائے گی۔ 5۔ جب پوری کوشش کے باوجود حدیث نہ ملے تو صحابہ اور تابعین کے ارشادات کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ [1] تحریک آزادی فکر ص 41۔ 40