کتاب: حضرت مولانا داؤد غزنوی رحمۃ اللہ علیہ - صفحہ 460
میں مسندِ تدریس پر فائز رہے۔ بعض اساتذہ کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں: مولانا عبدالجبار غزنوی رحمہ اللہ (م 1331ھ) مولانا عبداللہ بن عبداللہ غزنوی رحمہ اللہ (م 1300ھ) مولانا عبدالاول غزنوی رحمہ اللہ (م 1313ھ) مولانا عبدالرحیم غزنوی رحمہ اللہ (م 1342ھ) مولانا عبدالحق غزنوی رحمہ اللہ، مولانا محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ (م 1338ھ) مولانا عبدالغفور غزنوی رحمہ اللہ، مولانا سید محمد داؤد غزنوی رحمہ اللہ، مولانا معصوم علی ہزاروی رحمہ اللہ، مولانا عبدالرحمٰن ساکن پکھلی، مولانا غلام رسول پوٹھواری رحمہ اللہ، مولانا ابو اسحٰق نیک محمد رحمہ اللہ، مولانا غلام رحمانی رحمہ اللہ، مولانا اصحاب الدین رحمہ اللہ، مولانا عبداللہ بھوجیانی رحمہ اللہ [1] استاذی المکرم مولانا شریف اللہ صاحب، مولانا محمد عبدہ صاحب۔ اس وقت دارالعلوم میں مندرجہ ذیل اساتذہ تدریس کا کام سرانجام دے رہے ہیں: ’’شیخ الحدیث مولانا حافظ محمد اسحاق صاحب، مولانا حافظ عبدالرشید صاحب گوہڑوی، مولانا عبدالرشید صاحب، مولانا قاری محمد صدیق صاحب، جناب پروفیسر میاں منظور احمد صاحب شاگرد رشید حضرت مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی رحمہ اللہ، جناب ڈاکٹر حافظ ظہور احمد اظہر۔‘‘ مشہور تلامذہ اس درسگاہ کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ ایسے فاضل افراد یہاں سے فارغ ہوئے جن میں علمی ثقاہت بھی تھی اور للہیت بھی۔ جو بیک وقت علم و فضل اور زہد و تقویٰ سے مالامال تھے۔ اس درسگاہ نے مولانا عبدالقادر لکھوی رحمہ اللہ، مولانا محمد علی لکھوی رحمہ اللہ اور مولانا عطا اللہ لکھوی رحمہ اللہ ایسے ارباب صدق و صفا پیدا کیے۔ مولانا حافط عبداللہ روپڑی ایسے علم و فضل اور زہد و تقویٰ کے پیکر اسی درسگاہ سے فیضیاب ہوئے۔ مولانا حافظ محمد گوندلوی اور مولانا محمد اسماعیل (گوجرانوالہ) ایسے جلیل القدر حضرات اس درسگاہ سے فارغ التحصیل ہوئے۔ جن حضرات نے دارالعلوم تقویۃ الاسلام سے فارغ ہونے کے بعد تدریس یا تبلیغ کا کام اپنی زندگی میں جاری رکھا تھا یا اس وقت ملک کے اطراف و اکناف میں تدریس یا تبلیغ کا کام کر رہے
[1] دیکھیے صفحہ 173، 174، 175 ہندوستان میں اہل حدیث کی علمی خدمات (مولانا ابو یحییٰ امام خاں نوشہروی رحمہ اللہ)