کتاب: مولانا احمد دین گکھڑوی - صفحہ 358
محمودیہ کوٹ کبیر کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مناظرِ اسلام، عالم بے بدل حضرت مولانا احمد دین صاحب گکھڑوی رحمہ اللہ کی وفات پر گہرے رنج والم کا اظہار کیا گیا اور ان کی وفات کو جماعت کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا گیا۔مولانا مرحوم نے اپنی پوری زندگی اسلام کی خدمت میں صرف کر دی۔اللہ تعالیٰ ان کی خدمات قبول فرمائے اور انھیں اپنی رحمت و مغفرت سے نوازے۔ محمد یٰسین کوٹ کبیری ناظم جمعیت طلباے مدرسہ دارالحدیث محمودیہ کوٹ کبیر ایک ناقابلِ تلافی نقصان: مناظرِ اسلام مولانا احمد دین گکھڑوی رحمہ اللہ کی وفات کو آزاد کشمیر کے جماعتی حلقوں میں شدت سے محسوس کیا گیا اور ان کی وفات کو جماعت کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا گیا۔راقم نے ایک خطبے میں ان کی جماعتی و مسلکی خدمات اور ان کی علمی و مناظرانہ سرگرمیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور جمعے کے بعد نمازِ جنازہ غائبانہ ادا کی گئی۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جماعت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ سید عبدالحی شاہ(خطیب مرکزی اہلِ حدیث) یہ مولانا مرحوم کی وفات پر تعزیت کی چند قراردادیں اور خبریں ہیں جو اخبار ’’الاعتصام‘‘ میں شائع ہوئیں اور ہمارے علم میں آئیں۔معلوم نہیں کہاں کہاں ان کی وفات پر اظہارِ حزن وملال کیا گیا ہوگا اور کس کس بزرگ نے تعزیتی تقریریں کی ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔ ٭٭٭