کتاب: مولانا احمد دین گکھڑوی - صفحہ 357
میدانِ مناظرہ کے شہسوار تھے۔ہر مناظرے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو کامیابی دی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو دولتِ علم سے مالا مال کیا تھا۔
یہ اجلاس ان کی وفات کو ناقابلِ تلافی المیہ تصور کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اور انھیں اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے۔آمین!
ناظم مسجد توحید گنج اہلِ حدیث گکھڑ
وفاتِ حسرت آیات:
مناظرِ اسلام حضرت مولانا احمد دین صاحب گکھڑوی رحمہ اللہ کی دائمی جدائی ہمارے لیے انتہائی رنج والم کا باعث ہے، جمعے کے دن مدرسہ دارالحدیث کے مدرس حضرت مولانا محمد علی صاحب کوٹ کبیری نے ان کی سیرت پر خطبہ دیا اور ان کی زندگی کے نمایاں پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔مولانانے کہاکہ مولانااحمدالدین رحمہ اللہ کی وفات سے علماے اہلِ حدیث کی صف میں جو خلا پیدا ہوا ہے، اس کا پُر ہونا نا ممکن ہے اور کہا کہ مولانا مرحوم مناظرِ اعظم بھی تھے اور کامیاب مبلغ و مقرر بھی۔ان کے دلائل ایک ایٹم کی حیثیت رکھتے تھے۔مولانا محمد علی نے ان کے کچھ مناظرے بھی عوام کو سنا ئے۔انھوں نے کہا کہ مرحوم کی زندگی کا مشن اسلام کی خدمت اور مذہبِ حقہ پر طاغوتی حملوں کا جواب دینا تھا۔اللہ تعالیٰ انھیں جزاے خیر دے، کروٹ کروٹ ان پر رحمت کے پھول برسائے اور انھیں اعلیٰ علیین میں جگہ عنایت فرمائے۔نماز جمعہ کے بعد مولانا مرحوم کی نماز جنازہ غائبانہ ادا کی گئی۔
محمد صدیق(ناظم شعبہ نشرو اشاعت کوٹ کبیر)
موت العالِم موت العالَم:
مورخہ 21جون بروز جمعرات بعد از نمازِ عشا جمعیت طلبا مدرسہ دارالحدیث