کتاب: مولانا احمد دین گکھڑوی - صفحہ 355
کہ کسی دشمن نے گولی کا فائر کیا اور گولی حافظ صاحب کے کندھے لگ کر جسم کے اندر ہی رہ گئی۔دشمن نے دوسری گولی چلائی تو وہ حافظِ قرآن کو لگنے کے بجائے لکڑی کی اس رحل کو لگی، جس میں قرآن رکھا ہوا تھا۔وہ رحل کی لکڑی کو چیر کر قرآن کے دوسری طرف نکل گئی اور کلام اﷲ کے اوراق پھٹ گئے۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد وہ اس قرآن کو سامنے رکھ کر درس دینا چاہتے تھے۔ وہ 1965ء میں پیدا ہوئے اور 1991ء میں اﷲ کے دربار میں پہنچ گئے۔کل چھبیس برس عمر ہوئی۔إناللّٰه وإنا إلیہ راجعون۔ ان کی شہادت کے بعد لوگوں نے مولانا سے احتجاجی مظاہرہ کرنے اور جلوس نکالنے کے لے کہا تو فرمایا: اس کی نہ ضرورت ہے اور نہ اس کا کوئی فائدہ ہو گا۔اس قسم کے مظاہروں اور جلوسوں سے کبھی کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا۔اس سے سڑکوں پر لوگوں کی آمدورفت رک جاتی ہے اور وہ پریشان ہوتے ہیں۔ہم اس قسم کا کوئی کام نہیں کریں گے جس سے لوگوں کو تکلیف پہنچے۔ مولانا محمد رفیق سلفی بھی 21 اگست 2013ء کو وفات پا گئے۔ إناللّٰه وإنا إلیہ راجعون۔ ٭٭٭