کتاب: مولانا احمد دین گکھڑوی - صفحہ 354
کا بھی۔بے شبہہ اس فن میں یہ بزرگ بے حد مہارت رکھتے تھے۔حافظ عبدالقادر روپڑی نے ’’سلطان المناظرین‘‘ کے لقب سے شہرت پائی، لیکن وہ خود مولانا احمد الدین گکھڑوی کو ’’استاذ المناظرین‘‘ کہا کرتے تھے۔ بہرکیف مولانا محمد رفیق سلفی معروف مناظر تھے۔انھوں نے مرزائیوں، شیعوں، عیسائیوں کے ساتھ بھی مناظرے کیے اور بعض موضوعات پر علماے احناف سے بھی ان کے مناظروں کا سلسلہ جاری رہا اور اﷲ نے ان کو کامیابی سے نوازا۔ صبر و ضبط کے باب میں بھی مولانا محمد رفیق سلفی کا مقام بڑا بلند تھا۔ان کے ایک لائق بیٹے حافظ عتیق الرحمن تھے۔وہ 8 اگست 1991 ء کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ کسی سفاک نے ان کو گولی ماری اور وہ نماز میں میں شہید ہو گئے۔یہ بہت بڑا حادثہ تھا جو مولانا ممدوح کو پیش آیا۔جوان بیٹے کی اچانک موت پر صبر سے کام لینا نہایت مشکل ہے، لیکن مولانا نے اس الم ناک موقعے پر انتہائی صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا۔شہید کی ماں نے بھی اس حادثے کو بڑے صبر اور حوصلے سے برداشت کیا۔باقی رشتے داروں اور افرادِ خانہ نے بھی ضبط و تحمل سے کام لیا۔ مولانا نے فرمایا: ’’حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو بھی مسجد میں شہید کیا گیا تھا اور جب انھیں شہید کیا گیا، وہ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے۔میرے بیٹے کو بھی مسجد میں شہید کیا گیا اور اس وقت شہید کیا گیا جب وہ صبح کی نماز پڑھا رہا تھا۔حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی دوسری رکعت تھی اور حافظ عتیق الرحمن کی بھی دوسری رکعت تھی۔‘‘ مولانا محمد رفیق سلفی اس دن ایک عزیز کی وفات پر لاہور گئے تھے۔ان کی عدم موجودگی میں ان کے یہ صاحب زادے نماز پڑھا رہے تھے۔دوسری رکعت کا آخری سجدہ کر کے اٹھے ہی تھے اور ان کی زبان سے ابھی اﷲ کا مبارک نام نکلا ہی تھا