کتاب: مولانا احمد دین گکھڑوی - صفحہ 353
میں بھی وعظ کیے۔اﷲ نے ان کی زبان میں اثر رکھا تھا اور لوگ ان کے وعظ سے بہت متاثر ہوتے تھے۔
وہ مبلغ دوستوں کے ساتھ تبلیغ کے لیے گلیات وغیرہ بھی گئے۔اس علاقے کے مختلف مقامات میں میاں فضل حق مرحوم اور ان کے مرحوم و مغفور فرزند نعیم الرحمن کی کوشش سے متعدد مساجد کی تعمیر ہوئی اور لوگوں نے کتاب و سنت کی راہ اختیار کی۔حافظ محمد یحییٰ عزیز میر محمدی اور ان کے رفقاے کرام کی تبلیغی جدوجہد سے بھی اس نواح کے لوگ متاثر ہوئے۔
مولانا محمد رفیق سلفی نے1967ء میں اپنے استاذِ گرامی حافظ محمد یوسف گکھڑوی کے ساتھ بہ سلسلہ وعظ و تبلیغ حیدر آباد اور کراچی کا سفر بھی کیا اور وہاں مختلف اجتماعات میں تقریریں کیں۔
اس کے بعد 1981 میں وہ حکیم عبدالرحمن آزاد مرحوم کے ساتھ صوبہ سندھ کے شہروں نواب شاہ، سکھر، میر پور، حیدر آباد اور کراچی گئے اور ہر جگہ بڑے بڑے مجمعوں میں تقریریں کیں۔ایک مرتبہ وہ مولانا حافظ عبد اﷲ شیخوپوری کے ساتھ کراچی گئے۔وہاں سب مسالک کے لوگوں کی دو روزہ مشترکہ کانفرنس تھی، جس میں اہلِ حدیث، دیوبندی اور شیعہ مقررین نے تقریں کیں۔حافظ عبداﷲ شیخوپوری اور مولانا محمد رفیق سلفی دونوں جماعت اہلِ حدیث کے ممتاز مقرر تھے اور ان کا حلقہ سامعین بڑا وسیع تھا۔
مولانا رفیق سلفی مناظر بھی تھے اور مناظرے کا فن مولانا احمد الدین گکھڑوی سے سیکھا تھا۔اس فن میں وہ مولانا حافظ عبد القادر روپڑی سے بھی متاثر تھے۔ان دونوں بزرگوں کو یہ اپنے دور کے بہت بڑے مناظر قرار دیتے ہیں اور واقعی یہ بہت بڑے مناظر تھے۔موضوع مناظرہ سے کامل معلومات کے علاوہ بنیادی بات مناظر کی حاضر جوابی ہے۔میں نے مولانا احمد الدین گکھڑوی کا مناظرہ بھی سنا ہے اور حافظ عبداالقادر