کتاب: مولانا احمد دین گکھڑوی - صفحہ 352
دیا۔اس کے بعد جلد ہی وہاں مسجد تعمیر ہو گئی اور جمعہ و جماعت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔اس مسجد میں مولانا محمد رفیق سلفی تا دمِ حیات پورے پچاس برس خدمتِ خطابت و امامت سر انجام دیتے رہے۔یہاں انھوں نے دینیات کی تعلیم کے لیے مدرسہ بھی جاری کیا، جس میں بیرونی طالب علم بھی تعلیم حاصل کرتے تھے اور مقامی بھی۔اس مدرسے میں ہمارے عزیز دوست جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے لائق مدرس، ماہنامہ ’’ترجمان الحدیث‘‘ کے مدیر اور متعدد کتابوں کے مصنف مولانا حافظ فاروق الرحمن یزدانی کئی سال خدمتِ تدریس پر مامور رہے۔مولانا محمد رفیق سلفی روزانہ نمازِ فجر کے بعد درسِ قرآن بھی دیتے تھے۔درسِ قرآن کا پہلا دور تیرہ(13)سال میں اور دوسرا سترہ(17)سال میں ختم ہوا۔تیسرا دور جاری تھا کہ وہ وفات پا گئے۔
اب راہ والی میں چھے یا سات مسجدیں ہیں اور اﷲ کے فضل سے نمازیوں سے بھری رہتی ہیں۔بچوں کی تعلیم کا سلسلہ بھی ان مسجدوں میں جاری ہے۔راہ والی کے قرب و جوار کے دیہات ترگڑی، تلونڈی کھجور والی، بلے والا، منڈیالا وڑائچ، لوہیاں والا وغیرہ میں مولانا محمد رفیق سلفی نے کتاب و سنت کی خوب اشاعت کی۔ان مقامات میں وہ پیدل بھی جاتے اور سائیکل پر بھی ان کی آمدورفت رہتی۔وہ اس نواح کے مشہور خطیب اور بہت بڑے مناظر تھے۔انھوں نے خطابت و امامت کا کبھی کوئی پیسا نہیں لیا، نہ تبلیغ کے سلسلے میں کہیں آمدورفت کا کسی سے وصول کیا۔ان کا فرنیچر وغیرہ کا کاروبار تھا اور یہی ان کا ذریعہ معاش تھا۔
انھوں نے مولانا خالد گرجاکھی، مولانا عبد الرحمن عتیق، شیخ محمد اکرام اور دیگر حضرات کی رفاقت میں ضلع گوجراں والا کے مختلف مقامات میں توحید و سنت کی تقریری صورت میں تبلیغ کی۔شیخو پورہ، سر گودھا، چکوال اور ایبٹ آباد کے دیہات و قصبات