کتاب: مولانا احمد دین گکھڑوی - صفحہ 351
سلسلہ کیوں جاری ہے؟ یہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کے ذیل میں آتا ہے۔رقعے میں محمد رفیق نے لکھا تھا کہ اس کا جواب دیا جائے، لیکن مولانا عبد الغفور ہزاروی نے رقعہ پڑھا اور یہ کہہ کر جیب میں ڈال لیا کہ میں نے مناظرہ کرنا چھوڑ دیا ہے۔
رقعہ نویس محمد رفیق نے رقعے پر اپنا پتا بھی لکھا تھا، اس لیے شہر میں چرچا ہو گیا کہ اہلِ حدیث مدرسے کے ایک طالب علم نے مولانا عبد الغفور سے سوال پوچھا اور وہ اس کا جواب نہ دے سکے۔بات حافظ محمد یوسف صاحب تک بھی پہنچ گئی، انھوں نے طلبا سے دریافت کیا کہ رات تم میں سے جلسے میں کون گیا تھا؟ رفیق صاحب نے کہا: میں گیا تھا۔ان کے ساتھ جو طلبا گئے تھے، انھوں نے بھی اقرار کر لیا۔رفیق صاحب نے کہا کہ ان سب کو میں لے کر گیا تھا، اس لیے صرف مجھے سزا دی جائے۔حافظ صاحب نے فرمایا: مدرسے کے قانون کی سب نے خلاف ورزی کی ہے، اس لیے سزا میں سب برابر ہوں گے۔
اس کے بعد جب ان کی خدمت میں سارا واقعہ بیان کیا گیا تو جلسے نہ سننے کی پابندی ختم کر دی گئی۔
طالب علمی کے زمانے ہی میں یہ خطابت کے میدان میں آ گئے تھے۔ضلع گوجراں والا کے ایک گاؤں پپناکھہ میں ایک صاحب پیر مراد علی شاہ کی مسجد میں وہ کافی عرصہ جمعہ پڑھاتے رہے۔پھر ٹھٹھہ چھینا کی مسجد میں خطیب مقرر کر لیے گئے۔بعد ازاں موضع راہ والی میں جی ٹی روڈ پر ان کی کوشش سے مسجد کے لیے جگہ خریدی گئی۔اس کا سنگِ بنیاد پیر کے روز 2 دسمبر 1963ء کو رکھا گیا۔سنگِ بنیاد کے لیے وہ حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی کی خدمت میں گئے، لیکن انھیں کوئی ایسی رکاوٹ پیش آئی کہ وہ تشریف نہ لے جا سکے اور حافظ محمد یوسف گکھڑوی کو سنگِ بنیاد رکھنے کا حکم