کتاب: مولانا احمد دین گکھڑوی - صفحہ 350
گکھڑوی کے حلقۂ شاگردی میں شامل تھے اور حافظ صاحب کا حکم تھا کہ کوئی طالب علم کسی جماعت کے جلسے میں نہیں جا سکتا۔کوئی گیا تو اسے سزا دی جائے گی۔ گکھڑ کے بریلوی حضرات کی مسجد میں مولانا عبد الغفور ہزاروی کے شاگرد مولانا عبد ا لصبور ہزاروی امامت و خطابت کے منصب پر فائز تھے۔وہ ستائیسویں رمضان کو تقریر کے لیے اپنے استاذ مولانا عبد الغفور ہزاروی کو دعوت دیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ محمد رفیق صاحب بھی چند طالب علموں کو ساتھ لے کر ان کی تقریر سننے کے لیے چلے گئے۔مولانا عبد الغفور ہزاروی نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہابی آٹھ رکعت تراویح پڑھتے ہیں اور ہم حنفی بیس رکعت پڑھتے ہیں۔اگر قیامت کے روز اﷲ کے دربار میں بیس رکعت تراویح پڑھنا صحیح ثابت ہو گیا تو وہابی بارہ رکعت کہاں سے لائیں گے اور اگر آٹھ ثابت ہو گئیں تو بارہ رکعت ہمارے کسی اور کام آ جائیں گی۔ مولانا عبد الغفور ہزاروی کے اس فقہی نکتے پر لوگ بہت خوش ہوئے اور بڑی نعرے بازی ہوئی … محمد رفیق نے ان کے نام رقعہ بھیجا کہ وہابی اس یقین کے ساتھ آٹھ رکعت تراویح پڑھتے ہیں کہ یہی صحیح ہے، لیکن آپ اس شک میں مبتلا ہیں کہ تراویح بیس ہیں یا آٹھ اور اﷲ کے دربار میں بیس صحیح قرار پائیں یا آٹھ؟ جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ 29 شعبان کو اگر بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو شک کی بنا پر روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔یعنی یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اگر دوسرے دن روزہ نہ ہوا تو ہمارا یہ نفلی روزہ ہو گا اور اگر چاند ہوا تو اس روزے کو رمضان کے روزوں میں شامل کر لیا جائے گا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص شک میں روزہ رکھے، اس نے ابو القاسم(صلی اللہ علیہ وسلم)کی یعنی میری نافرمانی کی۔جب روزے کے بارے میں شک سے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے تو آپ کا آٹھ یا بیس تراویح میں شک کا