کتاب: مولانا احمد دین گکھڑوی - صفحہ 349
حافظ صاحب ممدوح ان کے اولیں استاذ تھے۔اسی مسجد میں قاری محمد ابراہیم صاحب سے بعض درسی کتابیں پڑھیں۔بعد ازاں مختلف اوقات و مقامات میں حافظ محمد یوسف گکھڑوی، مولانا احمد الدین گکھڑوی، مولانا عبداﷲ میر پوری، مولانا نذیر احمد اور مولانا خالد گرجاکھی سے اکتسابِ علم کرتے رہے۔آخر میں کتبِ تفاسیر و احادیث کے لیے حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی مرحوم و مغفور کی بارگاہِ فضیلت میں حاضری دی اور ان کے سامنے زانوئے شاگردی تہ کیے۔فارغ التحصیل ہونے کے بعد انھیں مولانا محمد رفیق سلفی کہا جانے لگا۔یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ پاکستان آنے کے بعد انھوں نے جس اہلِ علم سے دینیات کی تعلیم کا آغاز کیا تھا، ان کا نام بھی اسماعیل اور جن عظیم المرتبت شخصیت سے دینیات کی انتہائی کتابیں پڑھیں اور سندِ فراغت لی، ان کا اسمِ گرامی بھی اسماعیل۔دونوں اساتذہ کرام نے تقریر و خطابت میں بڑی شہرت پائی اور شاگرد بھی اس میدان میں نام ور ہوئے۔تینوں استاذ و شاگرد اﷲ کو پیارے ہو چکے ہیں۔رحمۃ اﷲ علیہم
حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی ان حروف کے راقم عاجز کے عالی قدر استاذ تھے اور مولانا حافظ محمد اسماعیل ذبیح مخلص بزرگ دوست۔افسوس ہے مولانا محمد رفیق سلفی سے ملاقات کا موقع نہیں ملا۔
مولانا محمد رفیق سلفی کا دورِ طالبِ علمی ہی سے مناظرانہ ذہن تھا۔مختلف مذاہب کے لوگوں کے ساتھ ان کے مناظرے ہوتے رہے، یہاں ان کے زمانہ طالب علمی کا ایک واقعہ بیان کرنے کو جی چاہتا ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ ابتدا ہی سے وہ حاضر دماغ اور حریف پر گرفت کی پوری صلاحیت رکھتے تھے۔
شرح اس متن کی یہ ہے کہ یہ جامع مسجد توحید گنج گکھڑ میں حافظ محمد یوسف