کتاب: مولانا احمد دین گکھڑوی - صفحہ 314
کاشمیری سے نسبتِ تلمذ کی و جہ سے معروف ہیں۔[1] ’’جناب محمد اسحاق بھٹی داد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے مولانا احمد دین گکھڑوی جیسے فرد کو گوشہ خمول سے نکال کر سرِ بزم لا بٹھایا ہے۔مولانا گکھڑوی کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی کہ ان کا تذکرہ عام کرتی، ان کے ساتھیوں اور شاگردوں میں بھی کوئی ایسا فرد نہ تھا کہ اس ضرورت کو محسوس کرتا۔اگر جناب محمد اسحاق بھٹی قلم نہ اٹھاتے تو شاید آج ان کی محنت سے جو کچھ جمع ہو گیا ہے، یہ کبھی نہ ہو سکتا۔اہلِ حدیث دوستوں کو جناب بھٹی کا ممنون ہونا چاہیے کہ وہ اپنی پیرانہ سالی میں جوانوں سے بڑھ کر کام کر رہے ہیں۔اللّٰھم زد فزد۔‘‘ صادق آباد، راولپنڈی میاں محمد الیاس ٭٭٭
[1] میں نے مولانا محمد چراغ کو شیخ الہند کے شاگرد نہیں لکھا، بلکہ یہ الفاظ لکھے ہیں:مولانا محمد چراغ نے ’’… ابتدائی تعلیم موضع گنجہ کے ایک عالم مولانا سلطان محمود سے حاصل کی جو شیخ الہند مولانا محمود حسن کے شاگرد تھے۔‘‘ آگے مولانا محمد چراغ کے بارے میں لکھا ہے: … مولاناانور شاہ صاحب کاشمیری سے جامع ترمذی پڑھی اور ان کی تقریریں جو وہ ترمذی پڑھاتے وقت اردو میں کیا کرتے تھے، دورانِ درس عربی میں لکھیں اور وہ ’’العرف الشذی‘‘ کے نام سے چھپیں۔