کتاب: مولانا احمد دین گکھڑوی - صفحہ 313
مسلکِ اہلِ حدیث کے پس منظر میں ایسے تبصرے بھی پڑھنے کو ملتے ہیں:’’سید عنایت اللہ شاہ بخاری مرحوم احناف کے دیوبندی مکتبِ فکر کے مشہور عالم تھے۔مسئلہ توحید پر بڑا موثر وعظ فرماتے، لیکن اس کے باوجود ان کے ذہن میں حنفیت نے بھی مضبوطی سے پنجے گاڑھ رکھتے تھے۔‘‘(ص: 82) دورانِ مطالعہ میں کتاب میں سہو یا اکا دکا ناقص اطلاعات سامنے آتی ہیں۔مثال کے طور پر: قاضی نور محمد کے تذکرے میں ان کے وطن ’’تحصیل گھیپ ضلع اٹک‘‘ کا حوالہ دیا گیا ہے(ص: 51)۔نام تحصیل پنڈی گھیب ہے، جو مقامی آبادی میں گھیبہ برادری کی نمایاں حیثیت کا عکاس ہے۔ مولانا غلام رسول(ساکن انہی)کا عرف ’’بابا جی‘‘ لکھا گیا ہے(ص: 51)دور و نزدیک وہ ’’بابا‘‘ کے طور پر معروف تو تھے، مگر نسبت انہی کے حوالے سے وہ ’’انھی والے بابا‘‘ کہلاتے تھے۔صفحہ: 53 پر اس موضوع کو ’’انی‘‘ لکھا گیا ہے جو درست نہیں۔مولانا محمد سرفراز خان کے تذکرے میں ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا(ص: 52)۔جناب بھٹی، مولانا محمد سرفراز خان صفدر کو راقم میاں محمد الیاس سے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ [1] ص: 53، مولانا محمد چراغ، شیخ الہند کے شاگرد نہیں تھے۔وہ مولانا انور شاہ
[1] میں نے میاں صاحب کا تبصرہ پڑھنے کے بعد مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے متعلق اپنے الفاظ دوبارہ پڑھے، میری سمجھ میں نہیں آیا کہ میں نے ان مرحوم عالم دین کے بارے میں ناانصافی کہاں کی۔اگر میاں صاحب کے نزدیک واقعی ناانصافی ہو گئی ہے تو میں معذرت چاہتا ہوں۔میں بعض معاملات میں اختلاف کے باوجود علما کا دل وجان سے قدر دان ہوں۔