کتاب: مولانا احمد دین گکھڑوی - صفحہ 296
امید ہے آپ بخیریت ہوں گے۔ والسلام عبدالواحد گوندل 16نومبر 2011ء چودھری عبدالواحد گوندل کے اس مکتوب کے ساتھ ان کے دو مکتوب اور تھے جو کہیں غائب ہو گئے تھے اور اب ملے ہیں، ان کا مطالعہ بھی میرے خیال میں فائدے سے خالی نہیں ہو گا۔ان کی تاریخ تحریر بھی 16 نومبر2011ء ہے۔ ان میں سے ایک مکتوب کا تعلق حضرت حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ سے ہے۔ملاحظہ فرمائیے: جناب بھٹی صاحب! السلام علیکم ایک بزرگ صوفی نذیر احمد صاحب نے حضرت حافظ محمد صاحب گوندلوی رحمہ اللہ کے حالاتِ زندگی لکھنے شروع کیے تھے۔اس ضمن میں انھوں نے تین سو صفحات لکھ کر مجھے نظر ثانی کے لیے دیے تھے۔میں نے دیکھ کر ان کو واپس کر دیے اور اس کے چار دن بعد وہ فوت ہو گئے۔ان کا کہنا تھا کہ میں اتنے صفحات اور لکھوں گا، لیکن ان کو مہلت نہ ملنی تھی، نہ ملی۔ حافظ صاحب گوندلوی رحمہ اللہ کی زندگی کے متعلق ناگی صاحب نے بھی کوشش کی تھی۔میرے پاس بھی آئے تھے، لیکن پھر ان کا کچھ پتا نہیں کہ کیا کیا؟ [1]
[1] اس سے عزیزی شاہد فاروق ناگی مراد ہیں۔انھوں نے حضرت حافظ گوندلوی رحمہ اللہ کے حالات لکھ لیے تھے اور وہ کتابی صورت میں شائع بھی ہو گئے تھے۔میرا خیال ہے کہ چودھری صاحب کے مطالعہ میں آئے ہوں گے۔خود میں نے بھی کافی تفصیل سے حافظ صاحب کا تذکرہ اپنی ایک کتاب ’’نقوشِ عظمتِ رفتہ‘‘ میں کیا ہے، جوکئی سال ہوئے مکتبہ قدوسیہ اردو بازار لاہور کی طرف سے شائع ہوئی تھی۔