کتاب: مولانا احمد دین گکھڑوی - صفحہ 248
آئے۔ان واقعات سے پتا چلتا ہے کہ وہ ہر وقت، ہرموقعے پر اور ہر مقام میں کلمہ حق کے لیے تیار رہتے تھے۔جہاں کسی کے قدم صحیح راہ سے ڈگمگاتے ہوئے دیکھتے، اسے ٹوکتے اور صحیح راہ پر گامزن ہونے کی تلقین فرماتے۔اس قسم کے حق گو اور صاف کلام لوگ روز روز پیدا نہیں ہوتے۔
٭٭٭