کتاب: محدث شمارہ 7 - صفحہ 30
اپنی کتاب میں محدث اعظم کا خطاب دیتے ہیں ۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں کہ ایسی بنجر اور عادی زمین کو آباد کرنے کے بعد جو ملکیت حاصل ہوتی ہے، وہ ابدی ہوتی ہے۔ ان کے خاص الفاظ یہ ہیں ۔ ’’فھذہ لصاحبا اَبَداً، لا تخرج من ملکہ وان عطّلھا بعد ذلک، لان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم قال: (من أحیا ارضاً فھی لہ) فھذا اذن من رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم فیھا للناس فان مات فھی لورثتہ ولہ ان یبیعھا ان شاء [1] ’’پس یہ زمین ہمیشہ کے لئے اس کی ملکیت ہو جائے گی اور اگر وہ بعد میں زمین کو بیکار خالی بھی ڈال رکھے تو اس کی ملکیت سے خار نہ ہو گی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے (عادی) زمین کو آباد کیا وہ اس کی ہو جائے گی، پس یہ اجازت ہے تمام لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے۔ اگر مالک مر جائے تو یہ زمین اس کے وارثین کی ہو گی اور مالک اس زمین کو فروخت کرنے کا بھی مجاز ہو گا۔‘‘ اب اگر ہماری حکومت شریعت کے اس قانون کی رُو سے آبادی سے دور بنجر زمینوں کو جو کسی شخص کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں ان کو کاشت میں لانے اور ان پر مکان بنانے کی عام اجازت دے دے یا خود مستحق لوگوں کو بلا حیل و حجت الاٹ کر دے تو ایک طرف غریب کاشت کاروں کو زمین مہیا ہو جائے گی۔ وہ اس پر کچے مکان بھی بنا سکیں گے۔ اور کاشت بھی کر سکیں گے، پھر آبادی کا مسئلہ بھی بآسانی حل ہو سکتا ہے، دیگر یہ کہ زمین وافر اور زیر کاشت ہونے سے پیداوار بھی بڑھے گی۔ اس کے علاوہ زمیندار [1] صفحہ ۹۰ کتاب الخراج یحییٰ بن آدم القرشی المتوفی ۲۰۲ھ گویا مصنف دوسری صدی ہجری کے محدث ہیں۔