کتاب: محدث شمارہ 7 - صفحہ 20
جو بات بھی اللہ تعالیٰ کی مرضٰ اور اس کے حکم کے خلاف ہو، آدمی کی طبیعت اس سے خود انقباض اور اذیت محسوس کرے اور اس سے باز رہے۔ ایک حدیث میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔ ’’اِنَّ لِکُلِّ دِیْنٍ خُلُقًا وَخُلُقُ الْاِسْلَامِ الْحَیَاءُ‘‘ (مؤطا امام مالک و ابن ماجہ) ہر دین کا کوئی امتیازی وصف ہوتا ہے اور دینِ اسلام کا امتیازی وصف حیا ہے۔ خوشبو لگانا بڑی محبوب صفت ہے۔انسان کے روحانی اور ملکوتی تقاضوں میں سے ہے۔ اس سے روح اور قلب کو ایک خاص نشاط حاصل ہوتا ہے۔ عبادت میں کیف اور ذوق پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے دوسرے بندوں کو بھی راحت پہنچتی ہے۔ اس لئے تمام انبیائ علیہم السلام کی محبوب سنت ہے۔ تیسری چیز مسواک اور چوتھی نکاح ہے۔ مسلم شریف میں ہے: ’’حضرت عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’عَشْرٌ مِّنَ الْفِطْرَۃِ الخ ‘‘ دس چیزیں امورِ فطرت سے ہیں ۔ موچھوں کا ترشوانا، ڈاڑھی کا چھوڑنا، مسواک کرنا، ناک میں پانی لے کر اس کی صفائی کرنا، ناخن ترشوانا، انگلیوں کے جوڑوں کو (جن میں اکثر میل کچیل رہ جاتا ہے، اہتمام سے) دھونا، بغل کے بال لینا، موئے زیر ناف کی صفائی کرنا اور پانی سے استنجا کرنا، حدیث کے راوی زکریا کہتے ہیں کہ ہمارے شیخ مصعب نے بس یہی نو چیزیں ذکر کیں اور فرمایا کہ دسویں چیز بھول گیا ہوں اور میرا گمان یہی ہے کہ وہ کلی کرنا ہے۔‘‘ علماء کہتے ہیں کہ ’’الفطرۃ‘‘ سے مراد انبیائے کرام کا طریقہ ہے کیونکہ ایک اور حدیث میں عشر من السنۃ کے الفاظ ہیں اور انبیاء کرام کے طریقہ کو فطرت اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ فطرت کے عین مطابق ہوتا ہے۔ اس تشریح کی بناء پر حدیث کا مطلب یہ ہو گا کہ انبیاءِ کرام نے جس طریقہ پر خود زندگی گزاری اور اپنی اپنی امتوں کو جس پر چلنے کی ہدایت کی اس میں یہ دس باتیں شامل تھیں ۔ گویا یہ دس چیزیں انبیاء علیہم السلام کی متفقہ تعلیم اور ان کے مشترکہ معمولات سے ہیں ۔