کتاب: محدث شمارہ 6 - صفحہ 31
شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ نے بھی زمینداری کی مخالفت کی ہے۔‘‘ اب ہم ناظرین کے لئے شاہ صاحب کا قول نقل کرتے ہیں تاکہ اس جھوٹ کا بھی پول کھل جائے۔ شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ حجۃ اللّٰه البالغہ میں لکھتے ہیں ۔ ’’بڑے بڑے تابعین شرکت مزارعت کیا کرتے تھے اور اس کے جواز پر اہل خیبر کے معاملے والی حدیث دلالت کرتی ہے اور جن احادیث میں اس سے نہی پائی جاتی ہے وہ احادیث، نہروں کے اوپر پیداوار یا کسی خاص قطعہ کے بدلے کرایہ دینے پر محمول ہے اور رافع رضی اللہ عنہ کا یہی قول ہے۔‘‘ [1] یہ تو مزارعت کا معاملہ تھا۔ جہاں تک نقد ٹھیکہ یا پٹہ پر دین کا سوال ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے موطا امام مالک کا جو انتخاب اور شرح کی ہے اس میں کئی اصحاب رضی اللہ عنہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، مثلاً عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی روایات اور عمل سے اس کا جواز ثابت کیا ہے اور یہ بھی حدیث روایت کی ہے کہ نقد ٹھیکہ کو خود رافع رضی اللہ عنہ بن خدیج بھی جائز سمجھتے تھے۔ [2] مندرجہ بالا اقوال کے ہوتے ہوئے یہ کہنا کہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے زمینداری کی مخالفت کی ہے، سراسر جھوٹ ہے اور دھوکہ بھی، کیونکہ شاہ ولی اللہ نے تو زمینداری کے حق میں دلائل بھی دیئے ہیں اور احادیث بھی بیان کی ہیں ۔ دراصل کمیونسٹوں کا کام یہ ہے کہ وہ جو لیڈر اور علما عوام میں مقبول ہوتے ہیں ۔ ان کا نام لے کر مارکس کے خیالات کی تبلیغ کیا کرتے ہیں ، جس طرح آج کل بیچارہ اقبال رحمہ اللہ بطور خاص ان کی مشق ستم کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ [1] صفحہ ۳۴۴ حجۃ اللہ البالغہ معہ ترجمہ، جلد دوئم مطبوعہ نور محمد کراچی [2] صفحات ۶۲۔۶۳ المُسَوّیٰ مِن اَحادیث الموطا