کتاب: محدث شمارہ 6 - صفحہ 28
دوسرے دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے لئے نکلے تو فیروز خنجر لے کر مسجد میں آیا۔۔۔ جونہی نماز، شروع کی فیروز نے دفعۃً گھات میں سے نکل کر چھ وار کئے: ۔۔۔ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اس حالت میں نماز پڑھائی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سامنے بسمل پڑے تھے، فیروز نے لوگوں کو بھی زخمی کیا۔ لیکن بالآخر پکڑ لیا گیا اور ساتھ ہی اس نے خود کشی کر لی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لوگ اُٹھا کر گھر لائے۔ سب سے پہلے انہوں نے پوچھا کہ ’’میرا قاتل کون ہے۔‘‘ لوگوں نے کہا کہ فیروز۔ فرمایا کہ ’’الحمد للہ میں ایسے شخص کے ہاتھ سے نہیں مارا گیا جو اسلام کا دعویٰ رکھتا تھا۔‘‘ تاریخ طبری میں یوں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَجْعَلْ مَنِیَّتِیْ بِیَدِ رَجُلٍ سَجَدَ اللّٰهَ سَجْدَۃً وَّاحِدَۃً۔ یعنی اللہ کا شکر ہے کہ میری موت ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں ہوئی جس نے اللہ کو ایک بار بھی سجدہ کیا ہو۔‘‘ تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ۔ لیکن تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اگر یہ سازش بھی تھی تو غیر مسلم ایرانی غلاموں کی سازش تھی جو پرولتاری پیشہ رکھتے تھے۔ یہ ہرگز مالدار اصحاب کی سازش نہ تھی۔ پھر دیکھئے کہ طبقات ابن سعد کی متعدد روایات سے پتہ چلتا ہے کہ اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سمیت تقریباً ایک درجن کے قریب نمازی زخمی کئے گئے تھے۔ اور ان میں سے نصف درجن اپنے خالق حقیقی سے جا ملے پس یہ تمام مسلمانوں کے خلاف ایک سازش تھی۔ [1] ہرحال واقعہ یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کسی سرمایہ دار نے نہیں بلکہ ایک مزدور یعنی پرولتاری نے، آمدنی میں اضافہ نہ ہونے پر شہید کیا۔ اور یہ بدنما داغ قیامت تک کے لئے پرولتاریوں (صنعتی مزدوروں ) کو لگا دیا۔ ہم مسعود صاحب سے پوچھتے ہیں کہ آخر کن مالداروں نے آپ کو شہید کیا یا کروایا۔ اور بتائیں اس وقت کون کون مالدار مدینہ میں تھے، مدینہ میں اس وقت ایک بھی یہودی نہ تھا۔ سب مالدار صحابۂ کرام [1] الفاروق مؤلفہ شبلی نعمانی باب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت