کتاب: محدث شمارہ 6 - صفحہ 14
ڈاکٹر تقی الدین الہلالی (پروفیسر مدینہ یونیورسٹی) مولانا عبد السلام کیلانی مدنیؔ (مترجم) قسط دوم تعلیم و تربیت نسواں افراط و تفریط کے درمیان اسلام کی راہِ اعتدال ہمارے پہلے آباؤ اجداد[1] جو اپنے عمل و اخلاق، تہذیب و تمدن اور معاشرتی ترقی کی بدولت، ساری دنیا کے پیشوا تھے، جن کی طرف ہماری نسبت ایک ناخلف کی ہی حیثیت سے ہو سکتی ہے۔ ان کا طرزِ عمل عورتوں کے معاملہ میں درست تھا، کیونکہ ان کے ہاں عورت اگر ایک طرف معاشرے کی متحرک روح اور چاق و چوبند فرد تھی جو علم و عمل کے خانگی، زرعی اور جنگی میدانوں میں مرد کے شریکِ کار ہوتی تو دوسری طرف ان تمام ذمہ داریوں کے باوجود بھی وہ باپردہ رہتی جو اس کی شرافت و ناموش کا محافظ ہوتا، اگر کوئی شخص اِس کا کسی قسم کا حق دبا لیتا تو حق کے حصول سے اس کا حجاب کبھی مانع نہ ہوتا اور نہ ہی صلح و جنگ کے امور میں مرد کے ساتھ تعاون کرنے میں رکاوٹ بنتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف کیا مرد اور کیا عورتیں سب تہذیب و تمدن کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے۔ قرآنی تعلیمات نے عورت کی ترقی میں کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی بلکہ اسی مبارک کتاب کی پاکیزہ تعلیمات کا معجزہ تھا کہ عورت کی آبرو اور شرافت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اسے معاشرہ میں اعلیٰ مقام ملا۔ لیکن ہمارے پچھلے آباؤداجداد [2]جب دین و دنیا کی علمی اور صحیح عملی راہ سے ہٹ جانے کی وجہ سے عفت اور خلق کے بلند معیار قائم کرنے سے عاجز آگئے اور شرع محمدی کی حدود نافذ کرنے سے قاصر رہے تو انہوں نے فرار اور چھپنے کی راہ اختیار کی اور (بقول شما) پردہ میں غلو کر کے عورتوں کو گھروں میں زندہ درگور کر دیا۔ اگر اشد ضرورت پڑنے پر نکلیں بھی تو انہیں صرف ایک آدھی آنکھ کھولنے کی اجازت دی [1] زمانہ قدیم کے آباؤ اجداد [2] زمانہ تأخر کے آباؤ اجداد