کتاب: محدث شمارہ 45 - صفحہ 41
آخر نیا فرقہ یا نئی جماعت کامفہوم اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ اس کے عقائد و خیالات سب سے نرالے اور جداگانہ ہوں ۔ اسلام کے جس قدر فرقے ہیں ان سب کی بنیاد صرف قرآن و سنت کی من مانی تعبیر کے سوا او رکیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس میں بانی طلوع اسلام کو یدطولیٰ حاصل ہے۔ پھر طلوع اسلام کے کارناموں کامختصر سا اشارہ بھی اس تعلّی پر موجود ہے کہ وہ اپنے محدود وسائل سے کام لے کر اپنی دھن میں آگے بڑھتا گیا۔ ان محدود وسائل کی نشاندہی نہیں فرمائی گئی اور آگے بڑھتا گیا کامدعا بھی نہیں بتایا۔ آخر وہ محدود وسائل کیا تھے او روہ کس مقام سےآگے بڑھا او رکس مقام پر پہنچا۔ اگراس کی تشریح کردی جائے تو طلوع اسلام کی جماعت کا سراغ او راس کے قواعد و ضوابط کی تعیین میں کوئی دشواری نہ رہے گی۔ یہ تو تھی تعلّی اب تعریض ماحظہ ہو۔ اہل حدیث اور اہل سنت والجماعت دونوں پر لازم ہے کہ ’’ان کے پاس اپنے مسلک کی تائید میں کچھ وصفی روایات ہوتی ہیں جنہیں وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردیتے ہیں اور کچھ اسلاف کے مقدس نام سے جن کی اندھی تقلید کو وہ عین دین قرار دے کرعوام کو اپنے پیچھے لگائے رکھتے ہیں ۔‘‘ کاش وہ یہ بھی بتا دیتے کہ وہ کون سے اصحاب ہیں جو محض موضوع احادیث کے پیرو ہیں اور یا وہ کون سے اسلاف ہیں جن کی اندھی تقلید دنیا کے تمام مسلمان کررہے ہیں جس میں جماعت اسلامی بھی شامل ہے۔ جماعت اسلامی کے بارے میں (جو قدیم روایات کی حامی اور اسلاف کی پیرو ہے)لکھا ہے کہ ’’طلوع اسلام نے (ظاہر ہے کہ اس سے مراد جماعت ہی ہوسکتی ہے)تقسیم ہند سے پہلے بھی ان کی مخالفت کی تھی (یعنی طلوع اسلام ان کا ازلی دشمن ہے).... چونکہ جھوٹ بولنا ان کے (یعنی جماعت اسلامی کے)مذہب میں جائز ہی نہیں بلکہ واجب قرار پاتا ہے او رعند الضرورت اصولوں کو پس پست ڈال دینا ان کے نزدیک معاذ اللہ اتباع سنت نبوی ہے اس لیے انہوں نے طلوع اسلام کے خلاف ہر قسم کے جھوٹے الزام تراشے۔ جماعت طلوع اسلام کی صداقت شعاری ملاحظہ ہو کہ ’’جماعت اسلامی کے نزدیک جھوٹ بولنا واجب بلکہ سنت ہے او رجماعت اسلامی کی یہ کذب بیانی دیکھئے کہ ’’طلوع اسلام منکر حدیث ہے۔ منکر شان رسالت ہے۔ تین نمازوں اور نو روزوں کا قائل ہے وغیرہ‘‘ اگر فی الواقع جماعت اسلامی نے یہی کہا تو شاید جھوٹ ہی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ طلوع اسلام صرف حدیث کی حجیت اسلام ہونے کامنکر ہے۔ حدیث کامنکر نہیں ہے۔شان رسالت کا قائل ہے۔ البتہ احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قابل اتباع نہیں سمجھتا اورنہ اسے شارح قرآن تسلیم کرتا