کتاب: محدث شمارہ 44 - صفحہ 26
سید محمد صدیق حسن خاں رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں ۔
ولا یخفی ان الدعاء لیس من باب اھداء ثواب القربۃ بل سوال و التماس من اللّٰہ ان یعطی المسئول لہ ما طلبہ السائل شفاعۃ منہ وتوسل الی اللّٰہ بدعائہ ان یھب للمسئول لہ ما طلبہ ولیس ھنا ثواب عمل یھبہ لہ ویھدیہ الیہ وثواب ھذا العاء والاستغفار والسوال والشفاعۃ باق للسائل فھذا لیس من ادلۃ اھداء الثواب (ثمار التنکیت فی شرح ابیات التثبیت اللنواب ص ۱۰۳)
تیسری چیز جو متفق علیہ ہے وہ نیک اولاد ہے جو والدین کو اپنی نیک دعاؤں میں یاد کرتے ہیں : حدیث میں ہے:
اذا مات ابن اٰدم انقطع عملہ الا من ثلث، صدقۃ جاریۃ او علم ینتفع بہ او ولد صالح یدعولہ (بخاری و مسلم عن ابی ھریرۃ)
ہمارے نزدیک یہ بھی ’’ایصالِ ثواب‘‘ کی قسم کی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ بھی ایک ذریعۂ سفارش ہے جیسا کہ الفاظِ حدیث سے ثابت ہوتا ہے یعنی دعا میں داخل ہے یا عمل جاری میں کیونکہ الولد من سعیہ ہے۔
دعا، استغفار اور جاری کردہ سلسلہ جاری کے علاوہ دوسرے جتنے نیک کام ہیں ان کے بارے میں متعدد اختلافات ہیں ۔ مثلاً
ایک طبقہ تو سرے سے ایصال ثواب کا قائل ہی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ:
یہ اس آیت کے خلاف ہے:﴿ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى﴾ کے لئے وہی کچھ ہے جو اس کی سعی و کوشش کا نتیجہ ہے۔
۱۔ آیت ﴿لَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ﴾ اور آیت﴿لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ﴾ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ وہی ملے گا جو کرو گے۔
۲۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ: ایصالِ ثواب کا تصور اس حدیث کی منشاء کے خلاف ہے جس میں ہے کہ صدقہ جاریہ، علم جاری اور ولد دعاگو کے سوا اور کوئی سلسلۂ عمل باقی نہیں رہتا (بخاری و مسلم)
۳۔ کہتے ہیں کہ: یہ حوالہ (قرضہ کسی دوسرے کے حوالے کرنا کہ وہ دے گا)ہے، اور خدا اس سے پاک ہے کہ وہ کسی کا مقروض بنے، وہ تو جو بھی دیتا ہے، اپنے فضل سے دیتا ہے۔
والاھداء حوالۃ والحوالۃ انما تکون بحق لازم والاعمال لا توجب الثواب و