کتاب: محدث شمارہ 44 - صفحہ 23
ہو گی، اس لئے وہاں پر اس کا اندیشہ ہی نہیں تھا، باقی رہی یہ زمین؟ تو یہاں اس کا التزام نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے فطری خمیر میں باہمی آویزش کا بھی ایک پہلو مضمر اور پوشیدہ ہے۔ اس لئے فرمایا کہ یہاں سے آپ تشریف لے جائیں ، اور جا کر زمین پر اپنے ڈیرے ڈالیں ۔ زمین ایک محدود کائنات ہے اس لئے اس امر کا امکان موجود ہے کہ کچھ باہم الجھیں اور الجھا کریں ۔ ’’بعض کا دشمن بعض‘‘ کہا ہے کیونکہ کل ابنائے جنس سے یہ معاملہ نہیں ہو گا، ایک سے اگر الجھے گا تو دوسرے کی طرف لپکے گا بھی۔ اس لئے جن مترجمین نے اس ٹکڑے کے معنی ’’ایک دوسرے کے دشمن ہو کر‘‘ کیے ہیں ، وہواقعات کے بھی خلاف ہیں اور بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ کے جملہ کی روح کے بھی منافی ہیں ۔ اِلٰی حِیْنٍ (وقت مقرر تک)فرمایا ہے، کیونکہ یہاں سدا نہیں رہنا، بس ایک مسافر کی طرح آئے، سفر کی منزلیں طے کر کے پھر اسے ادھر ہی و پلٹ جانا ہے، جہاں سے تشریف لائے تھے۔ اب یہاں سے تشریح کا وہ سلسلہ شروع ہونے کو ہے، جو اس کی تخلیق کا باعث تھا۔ نکتۂ صوفیاء: حضرت آدم علیہ السلام کا خلد سے نکلنا، ایک عظیم المیہ اور حادثہ تصور کیا جاتا ہے۔ مختلف لوگوں نے اس کے مختلف اسباب بیان کیے ہیں ، حضرت احمد بن محمد بن سہل بن عطا، رومی متوفی ۳۰۹؁ھ جو حضرت جنید بغدادی اور ابو سعید فراز، جیسے عظیم بزرگوں کے مصاحبوں میں سے تھے وہ فرماتے ہیں کہ: حضرت آدم نے کہا کہ الٰہی: تو نے مجھے کیوں سزا دی، میں نے تو درخت محض تیرے جوار میں سدا رہنے کے لئے کھایا تھا؟ فرمایا: تو نے خلود درخت سے طلب کیا ہے۔ حالانکہ وہ شے میرے قبضے میں ہے (مختصر الواقع الانوار شعرانی رحمہ اللہ ) نامِ خدا کی شرم نے مارا: جب خدا کا حکم تھا کہ اس درخت کے نزدیک بھی نہ جانا تو حضرت آدم علیہ السلام اس کے بھرے میں کیسے آگئے؟ حضرت امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ (ف ۷۵۱؁ھ)اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ جب نامِ خدا کا واسطہ دیا جاتا ہے تو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ’’نامِ خدا کی‘‘ عظمت کے پیشِ نظر اسے باور کر لیتے ہیں ، جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے چور کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: تو نے چوری کی ہے؟ کہنے لگا: نہیں ! اس اللہ پاک کی قسم جس کے سوا اور کوئی خدا نہیں ! تو سن کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بولے، میں اللہ پر ایمان لایا اور اپنی آنکھوں کو جھٹلایا۔