کتاب: محدث شمارہ 44 - صفحہ 22
اخذ من سیئات صاحبہ فحمل علیہ (بخاری)
ان کے گاؤں سے روتے ہوئے گزرو: جن لوگوں نے اپنی ذات سے بے انصافیاں کی ہیں خدا کے نافرمانوں کے گاؤں سے گزر ہو تو جلدی سے نکل جاؤ!
لا تدخلوا مساکن الذین ظلموا انفسھم الا ان تکونوا باکین ان یصیبکم ما اصابھم ثم قنع راسہ واسرع السیر حتی اجتاز الوادی (صحیحین عن ابن عمر)
مظلوم کی بدد عا: مظلوم کی بد دعا سے بچیے۔
ایاک وعدوۃ المظلوم فانما یسئال اللّٰہ حقہ وان اللّٰہ لا یمنع ذا حق حقہ (شعب الایمان)
ظلم کرنا حرام ہے: فرمایا: میرے بندو! میں نے اپنے آپ پر ظلم اور بے انصافی کو حرام کیا ہے، تم پر بھی حرام کرتا ہوں کہ ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنا۔
یا عبادی انی حرمت الظلم علی نفسی وجعلتہ بینکم محرما فلا تظالموا (الحدیث قدسی۔ مسلم عن ابی ذر)
حاصل آیت: جب ملائکہ پر حضرت آدم کی برتری واضح ہو گئی تو انہیں پورے شاہی اعزاز کے ساتھ بہشت میں ٹھہرنے کو کہا گیا، صرف اتنی احتیاط ملحوظ رکھنے کی تاکید کی گئی ہے کہ فلاں درخت کے پاس نہ جانا، ورنہ کام خراب ہو جائے گا۔
فَاَزَلَّھُمَا (تو انہیں پھسلا دیا)وہ کیسے؟ بعض بزرگوں نے کہا ہے کہ دخولِ آدم کے وقت تک بہشت دار الجزا یا دار خلد نہ تھی جیسا کہ آب ہے۔ بلکہ اس وقت وہاں تکلیفات شرعی تھیں ۔ احکام تھے، نواہی تھے اور جب جنت کی ماہیت یہ تھی تو کوئی اشکال نہیں رہتا وہاں وسوسۂ شیطانی کے پہنچ جانے پر کسی متنفس کے وہاں سے نکالے جانے پر انتہی۔
گو یہ توجیہ بظاہر وزنی محسوس ہوتی ہے مگر بات بے دلیل ہے کیونکہ قرآن و حدیث میں اِس توجیہ کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ آخر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی تو وہاں تشریف لے گئے تھے پھر وہاں سے واپس بھی تشریف لے آئے تھے، وہاں جانا یا وہاں سے واپس آنا بھی تو خدا کے حکم ہی سے تھا، کیا یہ حکم شرعی نہیں ہے، بہرحال ہمارے نزدیک صحیح وہی ہے جو اس سے پہلے ہم بیان کر چکے ہیں ۔
جب یہ صورتِ حال پیدا ہو گئی تو حکم ہوا کہ اب آپ ’زمین‘ پر تشریف لے جائیں ، آپ کو ایک مقرر وقت تک وہاں رہنا ہو گا، لیکن بہشت کا یہ خاصہ ہے کہ وہاں باہم کدورتیں نہیں