کتاب: محدث شمارہ 44 - صفحہ 19
﴿وَاتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا اُتْرِفُوْا فِیْہِ ﴾(پ۲۱۔ ھود ع۱۰)
قیامت میں خسارے: قیامت میں خسارے میں بھی یہی ظالم لوگ ہوں گے جنہوں نے آیاتِ الٰہی سے بے انصافی کی۔
﴿وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہ فَاُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْا اَنْفُسَھُمْ بِمَا کَانُوْا باٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْا ﴾(پ۸۔ اعراف۔ ع۱)
ظالموں کے لئے معذرت: قیامت میں ان ظالموں کے لئے معذرت کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی جو آخرت کی جواب دہی کے سلسلے میں بے یقینی میں مبتلا تھے۔
﴿فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُھُمْ وَلَا ھُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ ﴾(پ۲۱۔ روم۔ ع۶)
یتیموں کا ناحق مال کھانا: یتیموں کا ناحق مال کھانا، بھی ظلم ہے۔
﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتِیْمَ ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ نُطُوْنِھِمْ نَارًا﴾ (پ۴۔ النساء ع۱)
خدا کی بات بدل دیتے ہیں : ظالم اور بے انصاف لوگ خدا کی بات کی بجائے اپنی ہانکتے ہیں ۔
﴿فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَھُمْ ﴾(پ۱۔ بقرہ۔ ع۴)
سب سے بڑے ظالم: جو خدا کے نام پر فراڈ کرتے ہیں ۔
﴿فَمَنْ اَظْلَمَ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ﴾(انعام۔ ع۱۷)
جو حق کی شہادت چھپاتے ہیں ۔
﴿وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَھَادَۃً عِنْدَہ مِنَ اللّٰہِ ﴾(بقرہ۔ ع۱۶)
جو آیات الٰہی سن کر منہ موڑ لیتے ہیں اور قیامت کی فکر نہیں کرتے۔
﴿وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہ فَاَعْرَضْ وَنَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدَاہُ ﴾(پ۱۵۔ الکھف۔ ع۸)
عاد اولٰی، قوم ثمود اور قوم نوح بڑے ظالم تھے۔
﴿اِنَّھُمْ کَانُوْا ھُمْ اَظْلَمُ وَاَطْغٰی ﴾(پ۲۷۔ النجم۔ ع۳)
مسجدوں میں یاد الٰہی سے روکتے ہیں : وہ بھی بڑے ظالم ہیں جو خدا کے گھر میں یادِ الٰہی سے روکتے ہیں ۔
﴿وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہِ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْھَا اسْمُہ وَسَعٰی فِی خَرَابِھَا ﴾(پ۱۔ بقرہ۔ ع۱۱)
واضح آیات و نشانات کا انکار: جو واضح آیات اور نشاناتِ حق کا انکار کرتے ہیں ، ظالم ہیں ۔