کتاب: محدث شمارہ 43 - صفحہ 33
اور شر، نیک اور بد، مضر اور نافع کے سلسلے میں اس کی تعلیمات اور فیصلے سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اور لیلھا کنھارھا کے مصداق ہیں ۔ عقل سلیم اور صالح نفسیات زبان حال سے بول اٹھتی ہیں کہ : گویا یہ بھی میرے دل میں تھا۔
﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ﴾ (بقرہ)
ماہ رمضان میں اس کے نزول کی جو حکمت سمجھ میں آتی ہے وہ دراصل مبارک فضا ہے۔ جوقرآنی تعلیمات اور ہدایات کے لیے سازگار ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن حمید سے کسب فیض کے لیےفکر و عمل اور قلب و نگاہ کی طہارت ضروری ہے اگر سچی طلب ،پیاس اور خدا جوئی کا جذبہ موجود نہ ہو تو قرآن پاک تعویذ نہیں ہے کہ وہ بے طلب کسی کو اپنے رنگ میں رنگ دے۔
اس لیے فرمایا کہ :
خدا کو تمہارے لیے آسانی منظو رہے سختی اور مشکل نہیں ۔
﴿يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ﴾ (بقرہ)
یہ اس لیے فرمایا کہ: ماہ رمضان کے سچے روزوں کا یہ بالکل قدرتی نتیجہ نکلتا ہے کہ دینی تعلیمات اور قرآنی حقائق انسان کے لیے بوجھ کے بجائے روحانی غذا بن جاتے ہیں ، اس لیے اسے ’’یسر‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
قرآن حکیم نےروزوں کی خود بھی جو حکمت بیان فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ :
روزوں کےسلسلہ میں قرآن حکیم نے جو ہدایات جاری کی ہیں اور آپ کی سہولتوں کے لیے جو کرم نوازی کی ہے، اس کی بنا پر آپ بھی اللہ تعالیٰ کا بول بالا کریں ۔
اگر ایک روزے دار،پورا ماہ روزے رکھ کر اور قرآن کو سینہ سےلگاکر خدا کابول بالا کرنے کے قابل نہیں ہوتا یا اس کے لیے مناسب اہتمام اور اقدام نہیں کرپاتا تو سمجھ لیجئے کہ سب کچھ کرکے آپ نے کھویا ہے پایا نہیں ۔
دوسری یہ حکمت بتائی ہےکہ :
تاکہ اس ہدایت کے ملنے پر آپ خدا کاشکر کریں ۔
﴿وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ (بقرہ۳ ع۲)
شکر یہ کامفہوم یہ ہے کہ :