کتاب: محدث شمارہ 43 - صفحہ 27
کتاب الجنائز ص۱۸۶ باب ماجاء فی قبر النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم الخ) اگر صلحاء سے مسنون عقیدت اور مقامات مقدسہ سے خالص محبت کانتیجہ ہے تو بھی اس امر کی گنجائش ہے کہ وہ اس کی تمنا کرے لیکن دیکھنا ہوگا کہ اس کی زندگی کو ان سے کچھ مناسبت بھی ہے؟ ورنہ یہی کہا جائے گا کہ سستی بخشش اور چور دروازے سے بہشت میں وہ گھسڑنے کی کوش کرنے لگا ہے۔ ایسے حال میں وہ بات کہی جائے گی جو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے فرمائی تھی۔ حضرت ابوالدرداء نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے درخواست کی تھی کہ آپ ’’ارض مقدس‘‘ تشریف لے آئیں ! آپ نے ان کو لکھا کہ زمین نہیں ، عمل انسان کو پاک کرتا ہے۔ ان ابا الدرداء کتب الی سلمان ان ھلم الی الارض المقدسۃ فکتب الیہ سلمان ان الارض لاتقدس احد وانما یقدس الانسان عملہ (مؤطا مالک،جامع القضاء کراھیۃ) اہل بدعت کے لیے اس قسم کی تمنا کہ صالحین کے جوار میں جگہ ملے،اخروی لحاظ سے ہو سکتا ہے کہ ان کےلیے مضرر ہے کیونکہ شخصیت پرستانہ ذہنیت سے آزاد ہوکر ایسی پاک فضا اورمعصوم ماحول کی تمنّا کرنا ان کے لیے ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ کیونکہ دنیامیں بھی وہ غیر اللہ کی پناہ ڈھونڈتے رہے ہیں اور مرنے کے لیے بھی کچھ اس قسم کے غیراللہ کی پناہ تلاش کرتے ہیں ۔ تاریخ و سیر سے پتہ چلتا ہے کہ بعض بزرگ ہستیاں ایسی بھی تھیں جنہوں نے پاک لوگوں کےجوار سے پرے رکھنے کی وصیت کی کہ میں کس منہ سے ان کے پڑوس کی تمنا کروں ، چنانچہ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنے بھانجے حضرت ابن زبیر سے وصیت کی تھی کہ مھے حضور اور شیخین کے ہمراہ دفن نہ کرنا۔ انھااوصت عبداللّٰہ بن الزبیر لا تدفنی معھم ادفن مع صواجی بالبقیع لا ارکی بہ ابداً (بخاری ایضا:۱؍۱۸۶) امام ابن حجر نے اس کے دو معنی بیان کیے ہیں ، ایک یہ کہ حضور کے پاس دفن ہوکر دوسری ازواج مطہرات پر میں اپنی برتری ثابت کرنا نہیں چاہتی۔ دوسرے یہ کہ واقعہ جمل کے بعد آپ وہاں دفن ہونے سے شرماگئیں کہ اب کس منہ سے ؟ یہ سبھی کچھ ان کی خشیت الہٰی اور فروتنی کی بات ہے، ورنہ ان کامقام بہت بلند ہے۔