کتاب: محدث شمارہ 43 - صفحہ 24
یجری من الانسان مجری الدم (بخاری مسلم) شیطان کاسب سے بڑا مقرب: شیطان اپنا تخت پانی پر بچھا کر اپنا لاؤ لشکر ادھر ادھر پھیلا دیتا ہے ان میں سے جو سب سے بڑا فتنہ گر ہوتا ہے وہ سب سے زیادہ اس کا مقرب ہوتا ہے اس لیے سب کی رپورٹ لیتا ہے ، سب سے کہتا ہے ، تم نے کچھ نہیں کیا، یہاں تک کہ ایک شیطان آکر کہتا ہے کہ میں نے میاں بیوی میں تفریق کردی ہے تو اسے سینہ سے لگا لیتا ہے اور کہتا ہے ، کرنے کا کام تو نے کیا ہے(مسلم) ناچاقی وجدال: فرمایا: شیطان اس بات سے تو مایوس ہوگیا ہے کہ اب کوئی نمازی اس کی پوجا کرے۔ لیکن باہمی جنگ و جدال سے مایوس نہیں ہے۔ (مسلم) شیطان کا تصرف: فرمایا : شیطان اور فرشتہ دونوں تصرف کرتے اور دخل دیتے ہیں .... شیطان شرکی دھمکی دیتا ہے اورحق کو جھٹلانےکو کہتا ہے۔ (ترمذی) جب عورت گھر سے نکلتی ہے: فرمایا جب عورت گھر سے نکلتی ہے تو (استشرفھا الشیطان)شیطان اس کے پیچھے ہولیتا ہے۔ شیطان کی نشست: فرمایا : آدھا دھوپ میں اور آدھا سایہ میں بیٹھنا ، شیطان کی نشست ہے (حدیث) ایک پاؤں میں جوتا: ایک پاؤں میں جوتا پہن کر نہ چلے۔کیونکہ ایسا کام شیطان کا ہے۔ بائیں ہاتھ سے کھانا: فرمایا: شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے، اس لیےایسا کوئی صاحب نہ کرے۔ ورنہ شیطان شریک ہوجاتا ہے۔کھانا کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنی چاہیے، ورنہ شیطان اسے اپنے لیے حلال تصور کرتا ہے۔ بسم اللہ: کھانا کھاتے وقت بسم اللہ بھول جائے تو بسم اللّٰہ اولہ و اخرہ کہے، فرمایا پھر شیطان کھایا پیا قےکردیتا ہے۔ گدھے کی آواز: جب گدھے کی آواس سنو تو ’’اعوذ‘‘ پڑھو،کیونکہ وہ شیطان کو دیکھ کر چیختا ہے۔ منتر نشتر: فرمایا یہ : من عمل الشیطان (ابوداؤد)یہ ایک شیطانی کام ہے (اکثر روایات مشکوٰۃ سےماخوذ ہیں ) شیطان کی شرارت : حضرت ابن مسعود نے اپنی بیوی کے گلے میں دھاگا دیکھا تو توڑ ڈالا ، بیوی نے کہا کہ اگر یہ غلط ہے تو پھر اس سے آرام کیوں آجاتا ہے ۔ فرمایا یہ شیطان کی کارستانی ہے۔ انما ذلک عمل الشیطان کان ینخسھا بیدہ فاذا رُتی کف عنھا (ابوداؤد)