کتاب: محدث شمارہ 43 - صفحہ 22
﴿ إِنَّمَا النَّجْوَى مِنَ الشَّيْطَانِ لِيَحْزُنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَيْسَ بِضَارِّهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ﴾ (پ۲۸۔ المجادلہ د۲)
قرآنی علاج: شیطان کا جب حملہ ہو تو فرمایا: پہلے وہ مجلس اور جگہ چھوڑ کر اُٹھ کھڑے ہوں ۔
﴿ وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ﴾ (پ۷۔ الانعام ع۸)
دوسرا یہ کہ :اعوذ پڑھے:﴿ وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ ﴾ (پ۲۴۔ حم السجدہ ع۸)
تیسرا یہ کہ :فوراً سنبھل جائیں ۔غلطی ہوئی ادھر آنکھیں کھل گئیں ۔
﴿إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ ﴾ (پ۱۹۔ اعراف ع۲۴)
اگر سنبھلنے اور استغفار کے بجائے بے حس رہے تو پھر وہ معصیت طبیعت ثانیہ بن جائے گی جس کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں ۔
واخوانھم یمدونھم فی الغی ثم لا یقصرون (ایضاً)
احادیث میں شیطان کا تعارف: قرآنی آیات میں شیطان کاجو تعارف تھا آپ نے پڑھ لیا۔ اب چند سطریں حدیث کی بھی ملاحظہ فرما لیں ۔
اللہ کے رسول سے بھی باز نہیں آتا: حضرت ابوالدرداء فرماتے ہیں کہ حضور نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو اعوذ باللّٰہ منک (میں تجھ سے اللہ سے پناہ مانگتا ہوں )کہا، پھر کہا العنک بلعنۃ اللّٰہ (میں تم پرخدا کی لعنت بھیجتاہوں )کہا اور تین دفعہ ہاتھ آگے بڑھایا، پھر ہم نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ : اللہ کادشمن آگ کا انگارہ میرے منہ میں چھوڑنا چاہتا تھا، تو تین دفعہ میں نے خدا کی پناہ مانگی اور تین بار اس پرلعنت کی مگر وہ پیچھے نہ ہٹا، پھر میں نے اسے پکڑنا چاہا مگر حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آگئی۔ لا صبح موثقا فلعب بہ ولدات اھل المدینہ (مسلم)ورنہ میں باندھ دیتا اور مدینے کے لونڈے اس سےکھیلتے( مسلم)
سب کےسا تھ لگا ہوا ہے: حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: شیطان سب کے ساتھ لگا ہوا ہے ، عرض کی حضور! آپ کے ساتھ بھی؟ فرمایا: ہاں ! پر اللہ تعالیٰ نے اسے میرے لیے رام کردیا ہے۔ اب : فلا یامرنی الابحق (اوقال الابخیر)مجھے حق کے سوا کچھ نہیں تلقین کرتا۔ (مسلم)
نومولود بچےکو کچوکے: حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے تو شیطان بچے کے سرین پر چٹکی لیتا ہے ، جس کی وجہ سے بچہ چلاتاہے۔ الاابن مریم وامہ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کی والدہ حضرت مریم علیہ السلام اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ (مسلم)
نماز میں چھیڑتا ہے: نمازی کو نماز میں چھیڑتا ہے۔ایک صحابی نے حضور سے اس کی شکایت کی