کتاب: محدث شمارہ 43 - صفحہ 21
انبیاء پر نازل کردہ کتب اور صحیفوں میں درایت ، نفس و طاغوت کی دلفریب باتیں ، اوہام پرستانہ ذہنیت اور بدعت کی یوں آمیزش کرتے ہیں کہ وہ بجائے خود ’’تعبیر وحی‘‘ بن جاتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ ایک کے بعد دوسرے رسول کوبھیجتا رہا ہے۔ ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ ﴾ (پ۱۷۔الحج ع۷) یا یہ کہ داعی حق پر بعض ایسی آیات نازل ہوتی ہیں جن کو لے کر شیطان یا شیطان صفت لوگ لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان متشابہات کے مقابلے میں دوسری محکم آیات نازل فرما دیتا ہے جس کے بعد شیطان شکوک و شبہات کا طلسم ٹوٹ جاتا ہے۔ قیامت میں یہ آنکھیں بھی نہیں ملائے گا: ﴿إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلَّا أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنْفُسَكُمْ مَا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ ﴾ (پ۱۳۔ ابراہیم ع۴) ب شک خدا نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا (سو اس نے پورا کیا)اور وعدہ تم سے میں نے میں کیا تھا مگر میں نے تمہارے ساتھ وعدہ خلافی کی اور تم پر میری کچھ زبردستی تو تھی نہیں ۔ بات تو اتنی تھی کہ میں نے تم کو (اپنی طرف)بلایا، دعورت دی، تم نے میرا کہا مان لیا تو اب مجھے الزام نہ دو، اپنے کو کوسو! (اب)نہ تو میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہتم۔ بلکہ انسان کو گمراہ کرکے اور مصیبت میں ڈال کر قیامت میں یہ مکار یہ جواب بھی ان کو دے گا کہ مجھے تو اللہ سے ڈر لگتا ہے، میں تو تم سے الگ ہوتا ہوں۔ ﴿إِذْ قَالَ لِلْإِنْسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ ﴾ (پ۲۸۔ الحشر ع۲) بے محل اور بے تحاشا خرچ: مال و دولت اللہ کی نعمتیں ہیں ، ان کے ذرے ذرے کا حساب ہوگا مگر شیطان کی کوشش ہوتی ہے کہ لوگ زیادہ اور بے محل لٹائیں تاکہ حساب کتاب سے بوجھل ہوجائیں اور قیامت میں اس کے بوجھ سے ان کابیڑا غرق ہو۔ اس لیے فرمایا یہ شیطان کے بھائی ہیں ۔ ﴿إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ ﴾ (پ۱۵۔ بنی اسرائیل ع۳) اہل حق کے خلاف خفیہ میٹنگیں : ذریت ابلیس یعنی وہ لوگ جو شیطان کے بندے ہیں ، اہل حق کو ہراساں کرنے ، ان کی تحریک کونقصان پہنچانے کے لیے خفیہ میٹنگیں اور سازشیں کرتے ہیں مگر ہوتا وہی ہے جو رب کو منظور ہوتا ہے۔