کتاب: محدث شمارہ 43 - صفحہ 20
إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴾ (پ۵۔ النساء ع۹) سبز باغ دکھاتا ہے: شیطان سبز باغ دکھا کر مارتا ہے اور جھوٹی آرزوؤں میں چور رکھ کر اُلو بناتا ہے۔ ﴿يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا ﴾ (پ۵۔ النساء ع۱۸) قابو پاکر خدا سے غافل کرتا ہے: جب انسان پر سوار ہوجاتاہے تو اُسے سب سے پہلے خدا سے بےتعلق اور اس کی یاد سے غافل کردیتا ہے۔ ﴿ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنْسَاهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ ﴾ (پ۲۸۔ المجادلہ ع۳) شیطان کا نزول ان پرہوتا ہے: (۱)شیطان کے لئے جن لوگوں میں بڑی کشش ہے اور جو لوگ اس پرجان چھڑکتے ہیں ، وہ جھوٹے اور بدکار لوگ ہیں ۔ ﴿هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ () تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴾ (پ۱۹۔ الشعراء ع۱۱) جو یاد خدا سے غافل ہوجاتے ہیں ، شیطان ان کا جانا دوست بن جاتا ہے جو سفر حضر میں ہمراہ رہتا ہے اور ان کو راہ راست سے روکتا رہتا ہے مگر وہ اس خوش فہمی میں پڑے رہتے ہیں کہ سیدھی راہ پر چل رہے ہیں ۔ ﴿ وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ () وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ ﴾ (پ۲۵۔ الزخرف ع۴) دنیا میں یوں ساتھ رہا مگر جب قیامت ہوگی تو کہے گا: الہٰی ! یہ دور ہوں ۔ ﴿حَتَّى إِذَا جَاءَنَا قَالَ يَالَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ ﴾ (ایضاً) پر یہ بُرا ساتھی ہے، جب اسے چمٹا لیا تو پھر اس سے پیچھا چھڑانا مشکل ہوجاتا ہے۔ ﴿وَمَنْ يَكُنِ الشَّيْطَانُ لَهُ قَرِينًا فَسَاءَ قَرِينًا ﴾ (پ۵۔النساء ع۶) شیطان اور شیطان صف لوگ مل کر دعوت حق کی راہ روکنے کے لیے سازشیں کرتے ہیں ۔ خوشنما بول گھڑتے ہیں تاکہ لوگوں کو ان کے ذریعے وہ شکار کرسکیں ۔ ﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا ﴾ (پ۸۔ الانعام ع۹) غور فرمائیے! شیطان کی یہ ساری کارستانیاں کس طرح یہ چاروں طرف چھا رہی ہیں ۔ انا للہ