کتاب: محدث شمارہ 43 - صفحہ 19
(۳)حاملین حق عموماً زیردست ہوتے ہیں ، زبردست عموماً وقت کے فرعون اور قارون بھی ہوتے ہیں ۔ اس لیے یہ بات اس کو سمجھاتا ہے کہ زیردستوں کے ہمراہ چلو گے تو بھوکے مرجاؤ گے، زبردستوں کا ساتھ دو گے تو وارے نیارے ہوں گے۔
﴿ الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ ﴾ (پ۳۔ البقرہ ع۳۷)
پھوٹ ڈالنے کا ایک ساحرانہ انداز:شراب کی مستی سینکڑوں بُرائیوں کی جڑ ہے۔ ان میں سے ایک ’’جھگڑا‘‘ بھی ہے۔یہی حال جوئے کا ہے۔ اپنے اپنے بتوں کی خوشنودی کےلیے جان ماری ، بجائے خود دوسرے سے تصادم پر منتج ہوتی ہے، یہی حال عقیدت کے مختلف مراجع اور مراکز کا ہے۔ گو ایک ہی دن کی بات ہو لیکن اس میں اگر مرجع عقیدت مختلف ہوں گے تو یقیناً کلمہ جامعہ انتشار کی نذر ہوجائے گا، یہی کیفیت،وےہم پرستانہ فالوں اور پانسوں کی ہے کہ اندھے کے ہاتھ میں لٹھ تھمانے کے نتائج سر پھٹول ہی ہوگی۔ اس لیے شیطان ان چیزوں کو رواج دیتا رہتا ہے کہ اس کے ساتھ خدا بھی بھول جاتا ہے۔
﴿ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (90) إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ﴾ (پ۷۔ مائدہ ع۱۳)
چونکہ شیطان ازلی دشمن ہے، اس لیے وہ تمہیں لڑا کر خوش رہتا ہے۔
﴿إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوًّا مُبِينًا ﴾ (پ۱۵۔ بنی اسرائیل ع۶)
وہ تمہیں الجھانے کے لیے آپ میں اپنے ڈھب کے لوگ لاگھسیڑتا ہے تاکہ وہ تمہیں الجھائے رکھیں اور جھگڑا جاری رکھیں ۔
﴿وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ ﴾ (پ۸۔ الانعام ع۱۳)
معلوم ہوتا ہے ہے کہ ایسی کج بحثی وہ خواہ دین کے نام پر ہو یا سیاست کے نام پر بہرحال وہ خدمت دین نہیں کہلا سکتی۔
طاغوت کے پاس مقدمہ: طاغوت ہر اس شے کا نام ہے جس کا خدا کے مقابلے میں انسان دم بھرتا ہے، ان میں سے ایک شیطان بھی ہے کیونکہ انسان اس کے کہنے پر زیادہ چلتا ہے۔ فرمایا کہ کہنے کو تو مسلمان ہیں مگر اپنے فیصلے اور کیس اس کےحوالے کرتے ہیں جو حق کی راہ مارتے ہیں ۔
﴿ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُوا