کتاب: محدث شمارہ 365 - صفحہ 51
حاضر تھا۔جنازہ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں نے عبید اللہ سے شراب کی بدبو محسوس کی، میں نے اُس سے پوچھا تو اس نےجواب دیا کہ میں نے اسے طِلا(دوائی )سمجھا تھا۔میں دوبارہ اُس سے اس مشروب کے بارے میں پوچھنے والا ہوں، اگر وہ نشہ آور تھا تو میں اسےکوڑے لگاؤں گا۔سائب بن یزیدکہتے ہیں کہ میں دوبار ہ گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے کوڑے لگا رہے تھے۔''[1]
دونوں روایات سائب بن یزید رحمہ اللہ سے ہی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ ایک ہی ہے۔اس تفصیل سے معلوم ہواکہ حضرت عمر نے اپنے بیٹے عبیداللہ کو کوڑے اس کے اس اقرار پر لگائے کہ اس نےنشہ آور طلاء پیاہے، محض منہ سے بدبو آنے پر سزا نہیں دی۔لہٰذا اس روایت میں مجرد بدبو آنے پر حد کے وجوب کی کوئی دلیل نہیں۔
۲۔حصین بن منذر سے روایت ہے کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ان کے پاس ولید کو لایا گیا جس نےشراب پی کر فجر کی نماز پڑھائی او ربعد میں کہا کہ مزید پڑھاؤں؟ اس کے خلاف دو آدمیوں نے گواہی دی۔حمران نےکہا کہ اس نے شراب پی ہے، دوسرے نے کہا کہ میں نے اُسے قے کرتے ہوئے دیکھا ہے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس نے شراب پی کر ہی قے کی ہے....الخ
یہ اثر پہلے گزر چکا ہے کہ حضرت عثمان نےاسے حدّ لگائی تھی۔
پہلے موقف والوں نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نےاسے مجرد قے کرنے پر سزا نہیں دی بلکہ اس قرینہ کے ساتھ حمران کی واضح شہادت پر حدّ لگائی۔اس لیے جن ائمہ کرام نے اس اثر کو ذکر کیا ہے۔اُنہوں نے اس پر یہ باب قائم نہیں کیا کہ قے سے حدّ لازم ہوتی ہے۔
۳۔علقمہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حمص میں تھے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورہ یوسف کی قراءت کی۔ایک آدمی کہنےلگا کہ اس طرح یہ سورۃ نازل نہیں ہوئی۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نےفرمایا کہ میں نےاسے اسی انداز میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا
[1] صحیح بخاری تعلیقا:۱۰؍۶۲؛مسندشافعی: ۲۹۶؛موطاامام مالک : ۲؍۱۷۸؛ مصنف عبدالرزاق: ۱۰؍۲۲۸